خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 29
خطابات طاہر جلد دوم 29 29 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۳ء کے لئے بھی اور ایران کے لئے بھی ، افغانستان کے لئے بھی اور پاکستان کے لئے بھی۔ایک ایک مسلمان ملک کا حال اپنے ذہنوں میں حاضر کر کے درد کے ساتھ اور تڑپ کے ساتھ اُن کے بچنے کی دعائیں کریں۔یہ امت مرحومہ آج بہت ہی مظلوم ہے، اتنے دکھوں کا شکار ہے کہ بعض دفعہ راتوں کو بے چین ہو کر میں خدا کے حضور گریہ وزاری کرتا ہوں کہ اے میرے مولا! ان کو بچالے۔یہ ہم سے نفرتیں کرتے ہیں تو کرتے رہیں لیکن ہماری محبت میں آنچ نہیں آئے گی۔ہم تو ان کا سکھ دیکھ کر ہی راضی ہوں گے ان کے دُکھ دیکھ کر راضی نہیں ہوں گے۔ان دعاؤں میں آپ شریک ہوں آج بھی شریک ہوں کل بھی شریک ہوں۔صبح بھی شریک ہوں اور رات کو بھی شریک ہوں۔عرب دنیا کے دُکھ تو ہمارے لئے بطور خاص دکھ کا موجب ہیں۔محسنِ اعظم ان لوگوں میں پیدا ہوا۔جس نے ہمیشہ کے لئے سارے زمانوں پر احسان فرمایا۔ہم اس احسان کو کیسے بھول سکتے ہیں۔آج اگر ہم روحانیت کی لذت پا رہے ہیں ، آج اگر ہم خدا سے آشنا ہیں تو عرب قوم ہی میں ہمارا وہ آقا اور محسن پیدا ہوا تھا جس کے نتیجہ میں آج ہم خدا آشنا ہو گئے۔اس احسان کو ہم کیسے بھلا سکتے ہیں۔ہمیں اس قوم سے گہری محبت ہے ان کے دکھ ہمارے دکھ ہیں بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے دکھ ان سے بڑھ کر ہمارے دکھ ہیں۔ان کے دکھ تو تقسیم ہو چکے ہیں یہ تو اندرونی نفرتوں کا شکار ہو کر بعض عربوں کا دکھ محسوس کر رہے ہیں اور بعض عربوں کے دکھ میں خوشی محسوس کرنے لگے ہیں مگر ہمارے لئے ان سب کے دکھ ہمارے دلوں میں جمع ہو کر ایک دکھ بن چکے ہیں اس لئے بہت دعائیں کریں اور کثرت سے دعائیں کریں۔جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہمیں کوئی خوف نہیں، ہمیں خدا نے امن کی ضمانت دی ہے۔قرآن کریم ہمیں بار بار یاد کراتا ہے الا ان أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔پس ہمارے دکھ دوسروں کے لئے ہیں، ہمارے خوف دوسروں کے لئے ہیں، ہمارے حزن دوسروں کیلئے ہیں اس لئے بکثرت دعائیں کریں اور اس جلسہ کے دوران ذکر الہی پر زور دیں۔صبح شام اٹھتے بیٹھتے بازاروں میں چلتے ہوئے گھروں کے اندر ہر وقت اپنی زبان کو ذکر الہی اور درود سے تر رکھیں۔اس کثرت کے ساتھ ذکر الہی کریں اور درود بھیجیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کو قبول فرمائے اور سارے عالم اسلام پر رحمت کی بارشیں برسنے لگیں۔آمین