خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 314 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 314

خطابات طاہر جلد دوم 314 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۳ء ہیں۔استغفار کرو کیوں؟ فتح کے نتیجے میں تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ دیکھو ہم نے اپنے اعمال کو اور اپنی سوچوں اور اپنی تدبیروں کو درجہ کمال تک پہنچا دیا ہے اور پھر اتنی بڑی فتوحات ہوئیں۔استغفار کا مضمون تو اس صورت حال سے تعلق رکھتا ہے کہ ہم ناکام ہوئے، ہم نامراد ہوئے ، پتا نہیں کیا کیا غلطیاں ہم سے ہوگئی تھیں جو ہم نتیجوں سے محروم رہ گئے۔تب انسان استغفار کرتا ہے، تو بہ کرتا ہے، اوہو! مجھ سے غلطیاں ہو گئیں، پتا نہیں کیا کیا نقائص تھے جن کے نتیجے میں کوئی فیض نہ پاسکا۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایک طرف تو فوج در فوج لوگ داخل ہوں گے، فتح کے نقارے بجیں گے مگرتم استغفار کرنا۔اس کی حکمت یہ ہے کہ ہماری کمزوریوں کے باوجود یہ فضل نازل ہورہے ہیں اور ان فضلوں کے نتیجے میں ہمیں کمزوریاں دور کرنے کی طرف توجہ کرنی ہوگی اور خدا سے بخشش مانگنی ہوگی کیونکہ آنے والی قوموں کی مہمان نوازی کا حق ادا نہیں ہوسکتا جب تک ہم اپنے نفسوں کی اصلاح کی طرف متوجہ نہ ہوں۔پس جتنی فتح خدا تعالیٰ کے فضل سے وسیع تر صورت میں احمدیت کو نصیب ہورہی ہے اور ہونے والی ہے، اس کے نتیجے میں اسی نسبت سے خدا کی تسبیح اور تحمید کے گیت گانے شروع کریں اور اپنی کمزوریوں کی طرف توجہ کریں۔اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگیں اور استغفار کریں اور اپنی کمزوریوں کا کھوج لگا کر ان پر خدا کی رحمت کے پردے ڈالنے کی کوشش کریں۔اللہ ہی ہے جولوگوں کے پردے ڈھانکتا ہے، انسان کے بس میں تو کچھ بھی نہیں اگر خدا کی ستاری کا پردہ نہ رہے تو ہم سارے تو ایک کوڑھی کی طرح اس دنیا کو دکھائی دینے لگیں کہ جس کا تن بدن رستے ہوئے ناسوروں سے چھدا ہوا ہو۔حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان پر خدا کی ستاری کا پردہ ہی ہے، جب تک وہ رہے اس وقت تک وہ لوگوں کو حسین دکھائی دیتا ہے۔جب وہ پردہ اٹھ جائے تو اندر سے کچھ بھی نظر نہیں آتا سوائے مکر وہ چیزوں کے۔بچپن میں ہم یہ غلطی کیا کرتے تھے کہ پہاڑی جونکوں پر نمک ڈال کر ان کو پگھلایا کرتے تھے کیونکہ یہ بچپن کی بیوقوفی کہہ لیں ،مگر ایک ایسی غلطی تھی جس میں سارے بچے اس علاقے کے مبتلا تھے۔جب پہاڑوں پہ جایا کرتے تھے تو جونکوں کے اوپر بڑی چکنی سے ایک جلدسی ہوتی ہے، ایک فلم سی ہوتی ہے، جو نمک سے فوراً پگھل جاتی ہے اور اس Film کے ساتھ وہ جونک چلتی ہوئی بڑی پیاری معلوم ہوتی ہے لیکن نمک ڈالیں تو اندر سے محض گوبر کا ڈھیر ہے کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔پس اگر دنیا کوخدا موقع دے دے کہ وہ ہم کمزوروں اور نا اہلوں پر نمک ڈال دیں تو اس نمک سے پکھل کر ہمارا