خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 305 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 305

خطابات طاہر جلد دوم 305 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۳ء ذکر کرتے ہوئے امریکہ سے ایک دوست لکھتے ہیں کہ: ”ان کی ایک سکھ دوست فیملی نے بتایا کہ وہ حضور کا خطبہ بڑے احترام سے سنتے ہیں۔“ ( مطلب ہے اس سکھ دوست کی بیگم نے یا بچوں میں سے کسی نے بتایا ) جب احمدیوں کا پروگرام شروع ہوتا ہے اور وہ حضور کو دیکھتے ہیں تو احترام کی وجہ سے صوفہ سے نیچے اتر کر قالین پر بیٹھ جاتے ہیں اور سارا پروگرام دیکھتے ہیں۔ایک دفعہ ان کی ایک بزرگ رشتہ دار ہندوستان سے تشریف لائی تھیں ان کو بھی انہوں نے پروگرام میں شامل کر دیا، تو انہوں نے بے ساختہ کہا! یہ - شخص جو تصویر میں ہے یہ نہیں بول رہا بلکہ اس کے منہ سے بھگوان بول رہا ہے۔“ پس خدا تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ جس منادی کا ذکر کیا تھا وہ تو ایک عاجز منادی ہے۔اس کی کوئی بھی حیثیت نہیں مگر جن کا ذکر چلتا ہے ہمارے آقا و مولا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے آقا ومولا اور مالک کل جہان ، خدا کے بعد جو سارے جہان کے مالک ہیں حضرت محمد مصطفی ہے، یہ انہی کے ذکر خیر کی برکت ہے کہ اس طرح دلوں میں پاک تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں۔ایک غیر احمدی نوجوان نے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، بہت کثرت سے دوست خط لکھتے ہیں۔یہاں تک کے بعض ریٹائرڈ فوجی جرنیلوں نے بھی لکھے، ہر طبقہ فکر کے لوگ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ بہت تیزی کے ساتھ دلوں میں پاک تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ایک نوجوان لکھتے ہیں۔" مجھے بڑا افسوس ہے کہ میری زندگی گزرگئی اور میں حضور کے اتنے پروگرام اور ان کی سچائی پر مبنی باتیں نہیں سن سکا۔اب میں اس مقام پر کھڑا ہوں کہ اگر سب دنیا کہے کہ آپ راہ حق پر نہیں تو میں انشاء اللہ آپ کا ساتھ دوں گا۔اس سے پہلے جہاں جہاں پر میں رہتا رہا ہوں، احمدی مذہب کے بارے میں غلط باتیں ذہن نشین کرائی جاتی تھیں اور ہم ان باتوں کو ماننے پر مجبور تھے کیونکہ ہمیں تو آپ کے بارے میں صحیح بات بتائی ہی نہیں جاتی تھی۔جب میں نے آپ کا پہلا خطبہ سنا تو اسی وقت میں نے فیصلہ کر لیا کہ آپ غلط نہیں کہہ سکتے