خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 27 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 27

خطابات طاہر جلد دوم 27 27 افتتاح طاب جلسه سالانه ۱۹۸۳ء اس کی عزت اور جلال کی قسم ہے کہ مجھے دنیا اور آخرت میں اس سے زیادہ کوئی چیز بھی پیاری نہیں کہ اس کے دین کی عظمت ظاہر ہو اس کا جلال چمکے اور اس کا بول بالا ہو۔کسی ابتلاء سے اس کے فضل کے ساتھ مجھے خوف نہیں اگر چہ ایک ابتلاء نہیں کروڑ ابتلا ہو۔ابتلاؤں کے میدان میں اور دکھوں کے جنگل میں مجھے طاقت دی گئی ہے۔من نه آنستم که روز جنگ بینی پشت من آں منم کاندر میانِ خاک و خون بینی سرے“ (انوار الاسلام روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۲۳) پس جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے ہم ہمیشہ ہمیش کے لئے امن اور محبت کی راہوں پر چلیں گے۔ہمیں دنیا سے کوئی خوف نہیں کیونکہ خدا کے بندے جو خدا کے ولی ہو جاتے ہیں ان کو دنیا کے خوفوں سے آزاد کیا جاتا ہے۔ہم وہ آزاد قوم ہیں غیر اللہ کے خوف سے جن کی آزادی پر کبھی کوئی تبر نہیں رکھ سکتا۔ہم اللہ کے ہیں اور اللہ کے رہیں گے، اس دنیا میں بھی خدا کے ہیں اس دنیا میں بھی خدا کے حضور حاضر ہوں گے اس لئے ہم سے بہتر ہم سے یقینی امن کی زندگی اور کسی کو نصیب نہیں ہو سکتی۔خطرہ ہمیں اپنی ذات سے متعلق نہیں خوف ہمیں اپنے اوپر نہیں۔ہاں بنی نوع انسان کے لئے خوف رکھتے ہیں، بنی نوع انسان کے لئے پریشان اور محزون رہتے ہیں ان کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔پس آج ہم سب مل کر جو دُعا کریں اس میں بنی نوع انسان کے ہلاکت سے بچنے کے لئے بطور خاص دُعا کریں اور اس سے بڑھ کر امت محمد مصطفی ﷺ کے لئے دعا کریں۔یہ امت بہت ہی دکھوں کا شکار ہو چکی ہے۔کوئی ایک ملک بھی تو ایسا نہیں جہاں مسلمانوں کا حال غیر نہ ہو چکا ہو۔طرح طرح کے مصائب نازل ہو چکے اور طرح طرح کے مصائب منہ پھاڑے دیکھ رہے ہیں اور اپنے وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔مشرق سے مغرب تک تمام مسلمان سلطنتوں میں بے امنی کی روح ہے، بے چینی ہے، بے قراری ہے۔بعض مسلمان بھائی ، بعض دوسرے مسلمان بھائیوں سے لڑ رہے ہیں۔بعض مسلمان ملک بعض دوسرے مسلمان ممالک سے لڑ رہے ہیں۔ایک ہی نعرہ بلند کرنے والے ایک ہی ملک کے باشندے ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں اور خدا تعالیٰ اور محمد مصطفی میے کے