خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 282 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 282

خطابات طاہر جلد دوم 282 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۲ء دوڑا کرو، میری طرف دست طلب دراز کرو، میں ہی ہوں جو تمہیں رزق عطا کرے گا۔”اے میرے بندو تم سب ننگے ہو سوائے اس کے جس کو میں لباس پہناؤں۔“ وہی رزق کا مضمون ہے جو لباس کی صورت میں آپ کے سامنے پیش فرمایا گیا۔”اے میرے بندو تم سب ننگے ہو سوائے اس کے جس کو میں لباس پہناؤں پس مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس پہناؤں گا۔اے میرے بندو ! تم دن رات غلطیاں کرو تو بھی تمہارے گناہ بخش سکتا ہوں پس مجھ سے ہی بخشش مانگو میں تمہیں بخش دوں گا۔“ اسی خدا کے سامنے بخشش کے طلبگار ہوں گے تو آپ کے تمام گناہ وہ بخش سکتا ہے۔کتنی بڑی آزادی کا پیغام ہے حقیقت میں توحید تمام بنی نوع انسان اور ہر غیر اللہ سے آزادی کا نام ہے۔لا اللہ کا دوسرا معنی آزادی ہے۔کوئی شخص تو حید کے بغیر دنیا میں آزاد نہیں ہوسکتا اگر توحید کامل کا غلام نہیں ہوگا تو لازماً دوسری غلامیوں میں جکڑا جائے گا۔پھر فرماتے ہیں: ”اے میرے بندو! تم مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے کہ نقصان پہنچانے کا ارادہ کرو اور نہ ہی تم مجھے نفع پہنچا سکتے ہو کہ نفع پہنچانے کی کوشش کرو۔اے میرے بندو! اگر تمہارے سب اگلے اور پچھلے جن وانس سب کے سب اول درجہ کے متقی اور پر ہیز گار بن جائیں اور اس شخص کی طرح بن جائیں جو تم میں سے سب سے زیادہ تقویٰ رکھتا ہے۔“ جانتے ہیں کیا پیغام ہے؟ وہ خدا کا بندہ جو یہ پیغام ہمیں پہنچارہا تھا وہ وہی تھا جو تمام بنی نوع انسان میں سب سے زیادہ خدا کا تقویٰ رکھتا تھا۔خدا فرماتا ہے اگر تم سارے اس محمد کی طرح ہو جاؤ جو تقویٰ میں تم سب سے بالا ہے تب بھی فرماتا ہے۔وو سب سے زیادہ تقویٰ رکھتا ہے تو تمہارا ایسا ہو جانا میری بادشاہت میں ایک ذرہ بھر اضافہ نہیں کر سکتا۔“ خدا کی بادشاہت کسی متقی کی محتاج نہیں ہے، ہر بادشاہت خدا کی محتاج ہے اور ہر متقی خدا کا