خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 280
خطابات طاہر جلد دوم 280 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۲ء بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اتنا رحیم وکریم ہے، اس نے اپنی ذات پر ظلم حرام کر رکھا ہے تو دنیا میں یہ کیا مصائب ہیں انسان کتنی مصیبتوں کا شکار ہے، کتنے دکھوں میں مبتلا ہے۔ان کا جواب حضوراکرم علیہ کے اس سادہ سے دو نکتوں کے بیان میں آجاتا ہے۔فرماتا ہے! میں نے اپنی ذات پر ظلم کو حرام کر رکھا ہے، تم پر بھی حرام قرار دیا ہے۔اگر ظلم ہوگا تو تم ظلم کرو گے، میری رحمت کے سائے میں آنا چاہتے ہو تو ظلم سے باز آؤ۔پس دنیا میں جتنے مظالم ہیں انسان ان کا خالق ہے۔انسان کے ہاتھ جب تک ظلم سے نہیں رو کے جاتے اس وقت تک بنی نوع انسان کو کہیں امن نصیب نہیں ہوسکتا۔کوئی ظلم نہیں ہے جو خدا کی طرف سے اترتا ہو، یہ سارے وہ ظلم ہیں جو زمین سے پیدا ہوتے ہیں اور انسان ایک دوسرے کو ان ظلموں کے ذریعے ہلاک کرتا ہے۔پس جن خطرات کی میں نے نشاندہی کی ہے جن کی طرف دنیا بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے وہ انسان ہی کے مظالم ہیں۔ان کا ایک ہی حل ہے کہ خدائے واحد و یگانہ کی طرف بنی نوع انسان کو واپس بلایا جائے، وہیں امن ہے اور وہیں ہمیشہ کی نجات ہے۔جب تک ہم خدا کی طرف واپس نہیں لوٹتے ، اس کی توحید کو دنیا میں دوبارہ قائم نہیں کرتے ہماری بقا کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ فرماتے ہیں کہ خدا نے مجھے فرمایا، یہ حدیث قدسی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کے علاوہ بھی آپ سے کلام فرمایا اور اس تمام کلام کو حدیث قدسی کہا جاتا ہے یعنی وہ مقدس کلام جو خدا تعالیٰ نے آپ کے دل پر نازل فرمایا۔فرماتے ہیں خدا کہتا ہے: ”اے میرے بندو تم سب گم گشتہ راہ ہو سوائے ان لوگوں کے جن کو میں صحیح راستے کی ہدایت دوں۔“ یہ مضمون جوں جوں آگے بڑھے گا اور جوں جوں آپ اس پر غور کریں گے آپ پر یہ راز کھلتا چلا جائے گا کہ یہ تو حید ہی کا مضمون ہے اور توحید کا مضمون اس شان اور اس رفعت کے ساتھ اس سے پہلے کہیں اور بیان نہیں ہوا۔سوائے اس کے کہ کلام پاک میں بیان ہوا ہو اور اسی کلام پاک کی یہ تشریحات ہیں جو خدا تعالیٰ نے مختلف رنگ میں حضور اکرم ﷺ کے قلب مطہر پر نازل فرمائیں۔فرماتے ہیں اللہ کہتا ہے۔”اے میرے بندو! تم سب گم گشتہ راہ ہو سوائے ان لوگوں کے جن کو