خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 278
خطابات طاہر جلد دوم 278 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۲ء اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے سوا جتنی موجودات ہیں ان کو فی ذاتہ کچھ نہ سمجھنا یہ کامل یقین رکھنا کہ خدا کی ذات سے قائم ہیں۔اپنی ذات میں ان کے اندر قیام کی کوئی استطاعت، کوئی طاقت نہیں اگر خدا نہ چاہے تو آن واحد میں بلکہ آن واحد کے تصور سے بھی پہلے یہ کالعدم ہوسکتی ہیں، ساری کائنات کالعدم ہوسکتی ہے۔اس یقین کو دل میں جاگزیں کرنے کا نام تو حید خالص ہے اور تمام کو هالكة الذات اور باطلة الحقیقت خیال کرنا یہ اسی مضمون کی تشریح ہے۔وو دوم صفات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ ربوبیت اور الوہیت کی صفات بجز ذات باری کسی میں قرار نہ دینا۔“ حقیقت یہ ہے کہ ربوبیت اور الوہیت ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح ملی ہوئی ہیں کہ جو انسان غیر اللہ کو اپنا رب بناتا ہے لازماً اس کی عبادت کرتا ہے اور جو غیر کی عبادت کرتا ہے اسی کو اپنا رب سمجھتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ دونوں بنیادی صفات اکٹھی اس لئے بیان فرمائیں تا کہ ہم اپنی دنیا کے معاملات میں ہمیشہ نگران اور متنبہ رہیں کہ جب تک ربوبیت کو خدا سے خالص نہیں کیا جاتا ہماری عبادت اس اللہ واحد کے لئے خاص نہیں ہو سکتی۔پھر فرمایا۔۔۔۔ربوبیت اور الوہیت کی صفات بجز ذات باری تعالیٰ کسی میں قرار نہ دینا اور جو بظاہر رب الانواع یا فیض رساں نظر آتے ہیں یہ اسی کے ہاتھ کا ایک نظام یقین کرنا۔۔۔“ کہ دنیا میں جو وسیلے ہیں ربوبیت کے اور ملوکیت کے اور دیگر اقتدار کے، یہ یقین کر لینا کہ خدا کی مرضی اور منشا کے بغیر یہ کوئی بھی حقیقت نہیں رکھتے اور اسی کے بنائے ہوئے وسیلے ہیں۔۔۔۔تیسرے اپنی محبت اور صدق اور صفا کے لحاظ سے توحید یعنی محبت وو وغیرہ شعار عبودیت میں دوسرے کو خدا تعالیٰ کا شریک نہ گردانا اور اسی میں کھوئے جانا۔۔(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ: ۳۵۰،۳۴۹) سیہ وہ صفات حسنہ ہیں ایک موحد کی جن پر ساری دنیا کی حیات کا دارو مدار ہے، تمام دنیا کی بقا کا دار ومدار ہے اور ہر احمدی کو اس حقیقت کا عرفان حاصل کرنا ہوگا اور اس حقیقت کو اپنی زندگی میں جاری کرنا ہو گا۔ورنہ تمام دعاوی جو بنی نوع انسان کی بہبود کے ہم کرتے ہیں وہ سارے بے معنی اور