خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 252 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 252

خطابات طاہر جلد دوم 252 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء جب میں قادیان حاضر ہونے کی تیاری کر رہا تھا تو مجھے یہ خیال آیا کہ جانے والے ضرور قادیان اپنے درویش بھائیوں کے لئے اور ہندوستان کے ضرورت مندوں کے لئے کچھ تحائف لے کر جارہے ہوں گے اور وہ اپنے طور پر کسی نہ کسی کو کچھ دیں گے یہ طریق درست نہیں ہے۔اس سے ذاتی احتیاج کا ایک رشتہ قائم ہو جاتا ہے جو مجھے معزز درویشوں کے حق میں پسند نہیں ہے۔اسی طرح ہندوستان کی غریب جماعتیں ہیں کثرت سے بہت ہی مخلص اور فدائی مثلاً اڑیسہ کی جماعتیں ہیں، کشمیر کی جماعتیں ہیں۔اسی طرح اور دیگر بڑے بڑے صوبوں میں بڑی غریب جماعتیں ہیں ان کی عزت نفس کو بھی اس بات سے ٹھوکر لگے گی کہ آنے والے از خود جس کو چاہیں کچھ تمیں تقسیم کرتے پھریں۔ان سے میں نے کہا کہ جانے سے پہلے ہی جہاں تک ممکن ہو معلومات اکٹھی کریں اور وہ رقمیں مرکز کے سپر د کریں تا کہ اس جلسے کی برکت کو با قاعدہ منصوبے کے تحت ہندوستان کی ضرورت مند جماعتوں تک پہنچانے کا انتظام کیا جائے۔جب وہ اطلاعیں آنی شروع ہوئیں تو خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ کثرت سے لوگوں نے خدمت کے لئے تحائف بھجوائے یعنی نقدی کی صورت میں اور میں نے تاکید کی تھی کہ الگ تحریک نہیں ہے بلکہ از خود جن کے دلوں میں یہ تمنا ہے کہ قادیان جائیں تو کچھ خدمت کی سعادت پائیں وہ اپنی رقمیں پیش کریں اور باہر کی جماعتیں جو وفود بھجوا رہی ہیں وہ بھی کچھ قوم پیش کریں۔اب میں آپ کو یہ خوشخبری پہنچاتا ہوں کہ ہندوستان کی احمدی جماعتوں کی بہبود کے لئے خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک کروڑ روپیہ مہیا ہو چکا ہے اور یہ سلسلہ انشاء اللہ جاری رہے گا۔میرے ذہن میں یہ نقشہ ہے اور انشاء اللہ مجلس شوریٰ میں اس پر غور ہوگا کہ ہندوستان کی تمام احمدی جماعتوں کو یعنی صوبائی جماعتوں کو ان کی ضرورت کی ایسی چیزیں مہیا کی جائیں جس سے وہ عزت کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکیں۔مثلاً چھوٹی چھوٹی صنعتیں وہاں لگائی جاسکتی ہیں، اسی طرح تعلیم کے لئے سہولتیں مہیا کی جاسکتی ہیں۔مدارس قائم کئے جاسکتے ہیں، اچھے ذہین طالبعلموں کے لئے وظیفوں کا انتظام ہو سکتا ہے تا کہ وہ اس ملک میں اعلی تعلیم حاصل کریں، دیگر ممالک میں بھی جا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔اس کے علاوہ بھی جو فوری ضرورتیں ہیں وہ بھی نقدی کی صورت میں یا جنس کی صورت میں مہیا کی جاسکتی ہیں اور ان مدارس کے علاوہ چھوٹے چھوٹے ہسپتالوں کی تعمیر ہو جو آہستہ آہستہ انشاء اللہ بڑھ کر بڑے بڑے ہسپتال بن جائیں گے۔ان کے فوائد غیروں کو بھی پہنچائے