خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 251
خطابات طاہر جلد دوم 251 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء میں بدنی سزا کا کوئی حکم نہیں ملتا۔کجا یہ کہ اس کو قتل کر دینے کا حکم ہولیکن اس کے باوجود میں نے پتا کروایا قادیان لکھا کہ ان فسادات کے نتیجے میں کچھ عورتیں بیوہ ہوئی ہیں، کچھ بچے یتیم ہوئے ہیں اُن بیچاروں کا قصور کوئی نہیں۔اُن کو علماء نے جس طرف ڈال دیا پڑ گئے اور مجھے یہ ڈر ہے کہ ان واقعات کے بعد اُن کا کوئی والی وارث اُن میں سے پیدا نہیں ہوگا اور اُن کو اسی طرح اپنے حال پر چھوڑ دیں گے اس لئے حضرت محمد مصطفی ﷺ کی محبت میں خواہ ناسمجھی کے نتیجے میں لیکن محبت میں جن لوگوں نے جانیں دی ہیں اُن کی بیواؤں اور اُن کے تیموں کی احمدیت والی وارث ہے۔آپ جائیں اور اُن گھروں کو تلاش کریں اور اُن کو بتائیں کہ آپ کی ساری ضرورتیں ہمیشہ انشاء اللہ جماعت احمد یہ پوری کرتی رہے گی اور خدا کے فضل سے ایسا ہی ہوا۔ہندوستان کی طرف اور ہندوستان کی احمد یہ جماعتوں کی بہبود کی طرف خصوصیت سے میری توجہ چند سال پہلے ایک ایسی رؤیا کے نتیجے میں ہوئی جو کسی احمدی دوست نے مجھے ابھی یاد نہیں کہ وہ کہاں کے تھے لکھ کر بھجوائی۔مجھے افسوس ہے کہ کاغذات میں اب وہ تلاش نہیں ہو سکی لیکن جن دنوں میں اس کا مضمون میرے ذہن میں تازہ تھا میں نے ایک جلسے پر اس کا ذکر بھی کیا تھا وہ رویا یہ تھی کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قادیان تشریف لائے ہیں اور اس خواہش کا اظہار فرماتے ہیں کہ میری بگھی کو نکالو، میں چاہتا ہوں کہ سیر پر نکوں لیکن جب بگھی نکالی گی تو وہ عدم استعمال کی وجہ سے زنگ آلود ہو چکی تھی اور خستہ حالت میں تھی۔پس فوری توجہ کی گئی کہ اس بگھی کو اس قابل بنایا جائے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُس پر سوار ہو کر سیر فرماسکیں۔اُس سے میں سمجھا کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ پیغام بھجوا دیا گیا ہے کہ ہندوستان میں جماعتوں کو اب تیزی سے سفر اختیار کرنا ہے اُن کے پاس ذرائع میسر نہیں ہیں ، عدم توجہ کا شکار ہیں اس لئے ان کی طرف خصوصی توجہ دی جائے۔چنانچہ اس وجہ سے قادیان کی جماعتوں سے دور دراز ہر جگہ براہ راست رابطے پیدا کئے گئے اُن کی ضرورتوں کا خیال کیا گیا اور جہاں تک خدا تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی قادیان کی بھی اور بیرون کی ضرورتوں کو بھی پورا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن صرف یہی بات کافی نہیں ہے بلکہ مستقل نوعیت کے انتظامات جاری کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ خاص احسان ہے کہ اس جلسے کی برکت سے خدا تعالیٰ نے بغیر کسی خاص تحریک کے وہ سامان مہیا فرما دیئے ہیں۔