خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 250
خطابات طاہر جلد دوم 250 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء میں آگے بڑھیں، خدمت دنیا کے کاموں میں بھی آگے بڑھیں اور خدا کی رحمت کا سائبان اس سفر میں ہمیشہ آپ کے سر پر دراز رہے۔ہندوستان میں پچھلے دنوں بہار میں مذہبی فسادات ہوئے اور مسلمانوں کو بھی تکلیف پہنچی اور بعض ہندوؤں کو بھی تکلیف پہنچی۔اُس کے نتیجے میں جماعت بہار کی طرف سے اس خواہش کا اظہار کیا گیا اور قادیان نے اس کی تائید فرمائی کہ وہاں جماعت احمدیہ کی طرف سے مظلوموں کے اجڑے ہوئے گھروں کے لئے کچھ کرنا چاہئے تعمیر نو کے لئے کچھ خرچ کرنا چاہئے۔چنانچہ جائزہ لینے کے بعد میں نے کچھ رقم منظور کی اور انہوں نے لکھا کہ ہم اس رقم سے طاہر کالونی آباد کریں گے یعنی وہ احمدی اور غیر احمدی مسلمان جن کے گھر جلائے گئے اور منہدم کئے گئے ان کے لئے ایک الگ سر چھپانے کی مناسب و موزوں جگہ مہیا کر دیں گے۔ان کو میں نے لکھا کہ یہ بات تو آپ کے دعاوی کے خلاف ہے کہ اپنی خدمت خلق کی سرگرمیوں کو مذہب کے دائرے میں محدود کر دیں۔اگر آپ نے طاہر آباد بنانا ہے تو ایک کرشن نگر بھی بنا ئیں اور جن ہندوؤں کو تکلیفیں پہنچی ہیں ان کو بھی سر چھپانے کے لئے جگہ مہیا کریں۔چنانچہ کل رات بہار سے جو وفد آیا ہے اس نے مجھے یہ خوشکن اطلاع دی ہے کہ خدا کے فضل سے طاہر آباد ہی نہیں بلکہ کرشن نگر بھی مکمل ہو گیا ہے۔تمام دنیا میں جو خدمت خلق کے کام ہو رہے ہیں ان کی تفصیل تو بہت لمبی ہے اور یہ موقع بھی نہیں یہاں اُس کے بیان کا جو جلسہ انگلستان میں ہوتا ہے اس کے دوسرے روز کی کارروائیوں میں میں مختصراً اس کا ذکر کیا کرتا ہوں۔امسال بھی انشاء اللہ وہیں یہ ذکر کروں گا لیکن ہندوستان سے تعلق رکھنے والے واقعات میں سے اہم واقعات یہ ہیں کہ اڑیسہ کے سیلاب زدگان کی بھی مدد کی گئی۔مضافات قادیان میں سیلاب زدگان کی بھی امداد کی گئی ، قادیان کے گردونواح میں آئی کیمپ لگائے گئے۔ایک سوانہیں دیہات کو اُس سے فائدہ پہنچا اور ہندوستان میں دوسرے رنگ میں بھی احمدی اور غیر احمدی مسلم اور غیر مسلم غرباء کی حسب توفیق خدمت کی گئی۔سلمان رشدی کا جو واقعہ ہوا اس پر علماء نے مسلمانوں کو اشتعال دلا کر فسادات کروائے۔بمبئی میں اس فساد کے نتیجے میں کچھ مسلمان شہید ہوئے۔اگر چہ ہم اُن فسادوں کے مؤید نہیں تھے ہم سب یقین رکھتے ہیں کہ اسلام کسی مذہبی گستاخی کے جرم میں کسی کی بدنی سزا کا قائل نہیں ہے اور قرآن کریم میں کہیں بھی کسی مذہبی گستاخی کے نتیجے