خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 225
225 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۱ء خطابات طاہر جلد دوم پس اس رسی کا معنی کچھ اور ہے صرف قرآن کریم نہیں ہے۔قرآن کریم اس رسی کا تانا بانا ہے لیکن یہ رسی بعض وجودوں میں ظاہر ہوا کرتی ہے اور وہ سب سے پہلا وجود جو اس رسی کا اتم مظہر تھا، کامل مظہر تھا، اکمل مظہر تھا وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ملے تھے۔آپ کے ہوتے ہوئے تمام عرب جس نے اسلام کو قبول کیا ایک ہاتھ کے تابع تھا، ایک آواز کے اوپر اٹھتا اور ایک آواز پر بیٹھ جایا کرتا تھا، کوئی افتراق کا شائبہ بھی وہاں دکھائی نہیں دیتا۔جب آنحضرت ﷺ اپنے رب کے حضور لوٹے تو وہی عرب تھا، وہی مسلمان تھے ، وہی قرآن تھا، خلافت بھی تھی لیکن اس کے باوجود وہ لوگ جن کو اجتماع کی عادت نہیں تھی انہوں نے انفرادیت اختیار کرنی شروع کی اور یہ انفرادیت تھی جس نے اس جمعیت کو پارہ پارہ کرنا شروع کر دیا۔یہ وہ انفرادیت تھی جس کے نتیجے میں پھر آخر خلافت کی نعمت ان سے اٹھالی گئی۔فرمایا! دوبارہ ایسانہ کرنا۔یہ ان آیات کا پیغام ہے جب میں آگے مضمون کو بڑھاؤں گا تو پھر آپ سمجھیں گے کہ یہ پیغام صرف ابتدائی حالات کا پیغام نہیں ہے بلکہ ایک ایسی جماعت کو تنبیہ فرمائی گئی ہے جو ایمان لا چکی ہے، جس نے رسی پر ہاتھ ڈال دیا ہے، جو اجتماعی طور پر ایک قوم بن کر کہ شہود پر اُبھر چکی ہے۔اس کو یہ تنبیہ فرمائی جارہی ہے وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ یہاں مسلمان مخاطب ہیں۔فرمایا ! یاد کرو اس دن کو جب تم ایک دوسرے کے کیسے دشمن تھے پھر خدا کی رحمت نے تمہارے دلوں کو اکٹھا کر دیا۔یہ اجتماع کا معنی ہے کہ تمہارے دل مل جائیں ، ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو۔فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ اِخْوَانًا پھر دوستیوں کی باتیں نہیں رہیں تم ایک دوسرے کے بھائی بھائی بن گئے ، وَكُنتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ یاد کرو تم آگ کے کنارے پر کھڑے تھے فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا تمہیں خدا تعالیٰ نے اس آگ سے بچالیا۔منصة پس آج جو بنی نوع انسان آگ کے کنارے پر کھڑے ہیں ان کے لئے بھی یہی نسخہ ہے اور یہ نسخہ پہلے آپ کی ذات میں جاری ہوگا، آپ پر عمل دکھائے گا، آپ کو شفاء بخشے گا۔تب آپ بنی نوع انسان کی شفا کے اہل بنائے جائیں گے۔فرماتا ہے كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ ايَتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ دیکھو خدا کیسے کھول کھول کر مضامین کو بیان فرماتا ہے، کاش تم ہدایت پاؤ۔