خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 190 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 190

خطابات طاہر جلد دوم 190 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء 66 تھی۔مٹی کے ڈھیر پر سامنے دومنزلہ مسجد ہے، پردے وغیرہ لگا کر بیٹھے ہیں۔“ مطلب یہ ہے مٹی کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں، سامنے اس مولوی کی دو منزلہ مسجد ہے جو ہر وقت ہمارے قتل کی اور ہمیں ملیا میٹ کرنے کی تلقین کرتا رہتا ہے۔” پر دے وغیرہ لگا کر بیٹھے ہیں۔عید بھی اپنے اسی گھر میں ہی اللہ پاک کے در کے فقیر ہو کر گزاری ہے۔“ ایک احمدی نو جوان ڈا کٹر کوضلع نواب شاہ میں سکرنڈ میں شہید کیا گیا۔ان کی بیگم لکھتی ہیں: ”میرے شوہر ڈاکٹر منور احمد کو مورخہ ۱۴ مئی کو دو پہر کے وقت سوتے میں شہید کر دیا گیا۔انا للہ وانا اليه راجعون ، حضور ! مجھ پر صدمے کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔ایک شفیق باپ کی حیثیت سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مجھ پر کیا بیت رہی ہے؟ ہماری شادی کو چھ سال اور دو ماہ کا عرصہ گزرا تھا کہ ظالموں نے میرا سہاگ لوٹ لیا۔حضور! میرے شوہر بڑے مہربان اور ہمدرد انسان تھے، سلسلہ احمدیہ سے بے انتہا عقیدت تھی ، ہمارے درمیان محبت اور پیار کا رشتہ بہت گہرا تھا، وہ تین بچوں کے شفیق باپ تھے۔حضور ! صدمے کی وجہ سے میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں۔“ چک 563 میں جو واقعات گزرے تھے ان سے آپ واقف ہیں۔اب وہاں کے ہی ایک ایسے دوست کی قلم سے جو وہاں کی سرگزشت پہنچی ہے اس میں سے ایک اقتباس میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔وہ لکھتے ہیں : آپ کی خدمت میں میرا یہ پہلا خط ہے، میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوں جن کے گھر اور میری ویلڈنگ کی دکان جلا دی گئی۔جب سرکاری مسلمانوں کا جلوس آیا تو انہوں نے سب سے پہلے ہماری مسجد کو آگ لگائی، ہمارا گھر بھی مسجد کے قریب ہے انہوں نے پہلے ہماری بیٹھک وغیرہ کے دروازے اور کھڑکیاں توڑیں۔اس میں ہمارے جشن صد سالہ کے پمفلٹ بھی تھے ، پتا نہیں ان کو آگ لگادی یا کنویں میں پھینک دیا۔احمدیوں نے جب