خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 15 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 15

خطابات طاہر جلد دوم 15 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۲ء طرح مشکل حالات میں صحابہ نے شعب ابی طالب میں شدید بھوک اور پیاس کی اذیتیں برداشت کرتے ہوئے وقت گزارا ہے۔اس کی کیفیت کو اس تھوڑے سے وقت میں بیان کرنا ممکن نہیں۔مختصراً میں صرف یہ بیان کرتا ہوں کہ صحابہ کہتے ہیں اُس وقت ہماری یہ حالت تھی کہ کئی کئی وقت فاقے کر کے ہوش نہیں رہتی تھی کہ کیا چیز کھانے کے قابل ہے اور کیا چیز کھانے کے قابل نہیں۔چنانچہ حضرت سعد بن ابی وقاص روایت کرتے ہیں کہ بھوک سے میرا یہ حال تھا کہ ایک دفعہ رات کو میں چار ہا تھا تو میرے پاؤں کے نیچے کوئی نرم سی چیز آئی۔اب میں نہیں جانتا کہ وہ کیڑا تھا یا کوئی اور چیز تھی۔اس وقت بھوک کا یہ عالم تھا کہ میں نے یہی سوچا کہ کھجور ہوگی۔چنانچہ اُٹھا کر میں نے اس طرح گلے میں ڈالی کہ میرے منہ کو مس نہ کر سکے اور مجھے پتہ نہ لگ سکے کہ کیا چیز ہے۔وہ گلے میں گری اور اندر چلی گئی۔وہ کہا کرتے تھے کہ مجھے آج تک پتا نہیں کہ میں کیا کھا گیا تھا۔پس یہ کیفیت تھی ان مظالم کی جس کی داستان جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے تین سال پر پھیلی ہوئی ہے۔ان کی حالت یہ تھی کر وہ شدید تکلیف میں باہر نکل کر بعض دفعہ پانی طلب کرنے پر مجبور ہو جایا کرتے تھے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابو امامہ باہلی نے جب اسلام قبول کیا اور وہ اپنی قوم کے پاس آئے اور ان کو تبلیغ کی تو انہوں نے اس کا انکار کر دیا۔اس موقع پر انہیں سخت پیاس لگی انہوں نے پانی طلب کیا تو ان کی قوم نے جواب دیا پانی سے تمہارا کیا تعلق۔پانی تو خدا کا پانی ہے تم پر حرام ہے۔ہم ہیں خدا کے بندے تمہارا کیا تعلق خدا سے ہم تمہیں پانی نہیں دیں گے۔خواہ تو پیاسا مر جائے۔(المستدرک للی کم جلد ۲ صفحہ ۶۴۲) غرض ان تمام مظالم کی داستان بہت طویل ہے۔اس عرصہ میں آنحضرت صلی ہے کا رد عمل کیا تھا اس کو ظاہر کرنے کے لئے میں نے ایک مختصر واقعہ کا انتخاب کیا ہے جس کو ابھی میں آپ کے سامنے پیش کرنے لگا ہوں۔مظالم کی داستان بہت طویل ہے۔اس کے جواب میں آنحضرت ہے کے دل کی کیا کیفیت تھی ہمارے لئے سب سے زیادہ قیمتی چیز یہی ہے۔اسی پر ہمیں نظر رکھنی چاہئے یہی ہمارا مقصود متبوع ہے۔آنحضور کے دل کی کیفیت، مظلومیت کے دور میں یہ تھی کہ ایک دفعہ حضرت خباب بن آرت آنحضور ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مسلمانوں کو قریش