خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 134 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 134

خطابات طاہر جلد دوم 134 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۷ء وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوَى (المائدہ : ۳) تم اس کام کے لئے پیدا کئے گئے ہو کہ ہر نیک کام میں تعاون کرو، ہر تقویٰ کی بات کو تقویت دینے کی کوشش کرو۔اس لئے ایسی (Association) جہاں جہاں بھی یورپ میں موجود ہیں جو غریبوں کی ہمدردی میں ہوں یا معاشرتی اور اخلاقی برائیوں سے لوگوں کو روکنے کے لئے ہوں احمد یہ جماعت کے جتنے افراد کے لئے ممکن ہو ان کا ممبر بننا چاہئے ، ان کو اسلامی تعلیم سے آگاہ کرنا چاہئے ، ان کے ساتھ مل کر ان کا ہاتھ بٹانا چاہئے اور پھر اس آیت پر نظر رکھنی چاہئے کہ تم دنیا میں صرف تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ کیلئے پیدا نہیں کئے گئے۔وَلِكُل وَجَهَةً هُوَ مُوَ لَيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ (البقرۃ:۱۴۹) ہر قوم کے لئے ہم نے ایک وِجْهَةً بنایا، ایک نصب العین بنایا ہے۔تمہارا نصب العین یہ ہے کہ صرف نیکیوں میں تعاون نہ کرو بلکہ تمام نیکیوں میں ہر دوسرے شخص سے آگے بڑھ جاؤ۔یہ تمہارا نصب العین ہے اس کی پیروی کرنا تمہارا فرض ہے۔پس صرف شامل نہ ہوں بلکہ اس طرح دل و جان سے شامل ہوں ، اس طرح بچے خلوص کے ساتھ ان کے کام میں ان کا ہاتھ بٹائیں اور ان کو نئی نئی اچھی راہیں دکھائیں کہ پھر آپ ان کی صف اول میں شمار ہوں، ان کے رہنما بن جائیں، ان کے آگے آگے چلنے والے ہوں تب آپ اسلام کے احکامات کو صحیح معنوں میں سمجھنے والے اور ان پر دیانت داری سے عمل کرنے والے ثابت ہوں گے۔جہاں تک پاکستان کے احمدیوں کا تعلق ہے ان پر بھی ان سب باتوں کا اطلاق اسی طرح ہوتا ہے اور جتنا کل ہوتا تھا اس سے بہت زیادہ آج ہوتا ہے کیونکہ جس تیزی کے ساتھ پاکستان کا معاشرہ برائیوں کی نذر ہو رہا ہے بہت کم قوموں کے حالات میں آپ کو اس رفتار کے ساتھ ہلاکت کی طرف بڑھتی ہوئی تو میں دکھائی دیں گی۔کوئی زندگی کا شعبہ باقی نہیں جو تیزی کے ساتھ انحطاط پذیرنہ ہو چونکہ آپ کو نفرتوں کا نشانہ بنایا گیا ہے اس لئے مجھے خطرہ ہے کہ آپ کہیں یہ رد عمل نہ دکھا ئیں کہ اچھا تم نے ہم سے برا سلوک کیا اس لئے جو کچھ تم سے ہوتا ہے ہم ایک طرف بیٹھ کر تماشا دیکھیں صلى الله گے۔آنحضرت ماہ کے اس انتباہ کو ہمیشہ یادرکھیں کہ جو قو میں ایسے موقعوں پر تماشا دیکھنے کے لئے بیٹھ رہتی ہیں وہ بھی ہمیشہ غرق ہوتی ہیں اور برائی کرنے والی قوموں کے ساتھ ڈوب جایا کرتی ہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے تمثیلات بیان کر کے اس بات کو خوب کھول دیا کہ ایسے وقت میں