خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 120
خطابات طاہر جلد دوم 120 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۶ء ہوں کہ آپ کی الوداعی تقریب میں میں بھی شامل ہوں اور میں خود حاضر ہوں شکر یہ ادا کرنے کے لئے۔چنانچہ وہ خود وہاں تشریف لے گئے اور ساتھ یہ الحاج اور میں مہاما صاحب کو بھی لے گئے وہاں پہنچ کر انہوں نے جو شکریہ ادا کیا وہ یہ تھا کہ اے سفیر پاکستان ! احمد یہ مشن ، ملک کی گرانقدر خدمات سرانجام دے رہا ہے اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ میری حکومت آپ کا شکر یہ ادا کرے۔مہاما صاحب بتاتے ہیں۔انہوں نے تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ جب میں نے یہ سنا تو میری ہنسی نکل گئی اور صدر مملکت نے میری طرف مڑ کے پوچھا کہ تم ہنسے کیوں ہو؟ میں نے کیا کہا ہے جو تمہیں ہنسی آگئی؟ اُس پر میں نے اُن کو صرف اتنا کہا کہ آپ حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کر رہے ہیں جبکہ حالت یہ ہے کہ دنیا میں جماعت احمد یہ وہ واحد جماعت ہے جسے کسی ملک سے بھی کسی قسم کی اعانت نہیں ملتی اور کوئی مالی مدد کسی حکومت سے حاصل نہیں ہوتی ، جو کچھ بھی اس مشن کی مساعی ہیں وہ سب کی سب جماعت احمدیہ کے افراد کی انفرادی اور اجتماعی قربانیوں اور باہمی تعاون کے نتیجہ میں ہے۔پس جہاں تک شکریہ کا تعلق ہے میں یقین دلاتا ہوں کہ حکومت پاکستان نہیں تو پاکستان کے عوام لاز ما تمام دنیا کے شکریہ کے مستحق ضرور ہیں کیونکہ یہ پاکستان ہی سے لوگ نکلے ہیں جو اؤل ہندوستان کے تھے بعد میں اکثریت پاکستان میں آگئی۔پاکستان ہی سے نکلے ہیں جو دنیا کے کونے کونے میں امن اور بہبود اور پیار اور محبت اور صلح اور آشتی کا پیغام لے کے گئے اور دنیا کے کونے کونے میں ہر قسم کے رنگ وملت کے لوگوں کی خدمات کیں اور اسلام کو ایک نہایت احسن رنگ میں ان کے سامنے پیش کیا اس لئے حکومت جو چاہے کرے مَن لَّا يَشكُرِ النَّاسَ لَا يَشكُرِ الله ( ترندى كتاب البر والصله: حدیث نمبر: ۱۸۷۷) اگر تمام دنیا کی عالمی احمد یہ جماعت پاکستان کے عوام اور اس وطن کی شکر گزار نہیں ہوگی تو وہ خدا کا بھی شکر ادا کرنے والی نہیں ہوگی۔اس لئے میں آخر پر دعاؤں کی تحریک کرتے ہوئے آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر اللہ اس قوم کے لئے دعا کریں گے اور اللہ محض حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ کی حسین تعلیم کے نتیجے میں ان کا شکر یہ ادا کریں گے اور ان کے لئے نیک خواہشات چاہیں گے تو اس کا بھی خدا آپ کو اجر عطا فرمائے گا۔اس قوم کی مدد اس سے بہتر اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ ہم دعاؤں میں ان کی آہوں کے ساتھ