خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 8
خطابات طاہر جلد دوم 8 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۲ء ملی تو یہ اجازت ہوئی کہ وہ اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنائیں۔چنانچہ قرآن کریم ان لوگوں کے اس رویہ کا ذکر ان الفاظ میں کرتا ہے۔وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسْجِدَ اللَّهِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا أُولَبِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَابِفِينَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِرى وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ (البقرة: ۱۱۵) یعنی اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے جس نے اللہ کی مساجد سے لوگوں کو روکا کہ ان میں اس کا نام لیا جائے اور ان کی ویرانی کے در پے ہو گیا۔ان لوگوں کے لئے یہ جائز نہ تھا کہ اس بارہ میں دخل اندازی کرتے مگر ان کو تو یہ چاہئے تھا کہ خدا سے ڈرتے ڈرتے ایسے معاملات میں قدم رکھتے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے ابتدائی ایام میں تکبیر تک کہنے کی اجازت نہیں تھی لیکن جب مسلمانوں کی تعداد کچھ بڑھی اور تمہیں تک پہنچ گئی تو پہلی مرتبہ ہم نبوی میں حضرت ارقم نے اپنا گھر پیش کیا جس میں آنحضور ﷺے اور آپ کے غلام اکٹھے ہو کر خفیہ خفیہ نمازیں پڑھا کرتے تھے۔جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں حضرت ابو بکر کو یہ اجازت مل گئی تھی کہ وہ اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنائیں لیکن وہاں بھی جب آپ قرآن کریم کی تلاوت کرتے اور نماز پڑھتے تو لوگوں کی دل آزاری ہوتی۔چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابو بکر گھر میں ہی اپنے رب کی عبادت کرنے لگے۔وہ اپنے گھر کے سوا نہ نماز اعلانیہ پڑھتے تھے اور نہ تلاوت کرتے تھے۔پھر انہوں نے اپنے گھر کے صحن میں ایک چھوٹی سی مسجد بنائی مشرکین کی عورتیں اور ان کے بچے وہاں جمع ہو جاتے اور یہ نظارہ دیکھتے کہ آپ تلاوت کرتے ہیں تو آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔اس بات کا اُن کے دل پر بڑا گہرا اثر پڑتا چنانچہ قریش نے گھبراہٹ میں ابن دغنہ کو بلا بھیجا جس نے آپ کو پناہ دی تھی اور صحن خانہ میں مسجد بنانے کی اجازت دی تھی۔اس نے بڑی سختی سے حضرت ابوبکر کومسجد اور نماز کے بارہ میں روکا۔کفار کے جذبات ، دل آزاری کے خیالی تصورات کو قبول کرنے کی طرف یہاں تک مائل تھے کہ حیرت ہوتی ہے کہ وہ باتیں جن سے دلوں کو خوش ہو جانا چاہئے اور سینے کھل جانے چاہئیں ان سے بھی ان کی دل آزاری ہوتی تھی۔چنانچہ قرآن کریم کی تلاوت سے وہ سخت دل آزاری محسوس کرتے تھے۔قرآن کریم ان کے اس رجحان کو یوں بیان کرتا ہے۔