خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 99 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 99

خطابات طاہر جلد دوم 60 99 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء اب شروع سے جو میں نے پہلی بات آپ کو بتائی تھی اس وقت سے آج تک کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں یہ اسی خواب کے پورا ہونے کی تعبیر ہے اور کلمے تک جب ہم پہنچے ہیں تو یہ خانہ خدا تک پہنچے ہیں، خانہ کعبہ تک پہنچے ہیں کیونکہ خانہ کعبہ کی روح کلمہ ہے، خانہ کعبہ کی جان کلمہ ہے اور وہاں ہمارے لئے کامیابیوں کا شہر مقدر ہے، وہاں ہمارے خون کا ہر قطرہ لعل و جواہر بنایا جانا تھا اور بنایا جائے گا، وہاں خدا کی رحمتیں ہم پر نازل ہوں گی اور خدا کے فضل ہم پر نازل ہوں گے اور ہورہے ہیں اس لئے اب ان فضلوں کو سمیٹنے کی تیاری کریں۔میں نے یہ سارے واقعات جو آپ کو بتائے ہیں یہ خلاصہ ہے ان فضلوں کا جو 84ء میں نازل ہوئے تھے مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ ان سے بہت بڑھ کر فضل ہمارے لئے مقدر ہو چکے ہیں۔اب آسمان سے جب خدا کی رحمتوں کی بارش ہو تو چھتریاں تو اس کو روک نہیں سکتیں، سائبان تان کر بھی کبھی آسمانی بارشوں کی راہ میں کوئی حائل ہوا ہے؟ ان کی چھتریاں بھی بیکار گئیں احمدیت کے اوپر فضلوں کے نازل ہونے کی راہ میں، ان کے سائبان جو انہوں نے تانے وہ بھی سارے بیکار ثابت ہوئے۔اگر کنکریٹ کی چھتیں یہ تعمیر کر سکتے ہیں تو ساری دنیا میں تعمیر کر لیں مگر خدا کی قسم آسمان سے نازل ہونے والا فضل چھتیں پھاڑ کر بھی آپ پر نازل ہوتا رہے گا اور ہمیشہ نازل ہوتا رہے گا اور ہمیشہ نازل ہوتا رہے گا اور ہر کوشش کے بعد بڑھے گا اور ہر ظلم کے بعد زیادہ ہوگا اور ہر روک آپ کی رفتار، آپ کی ترقی کی رفتار کو تیز سے تیز تر کرتی چلی جائے گی۔آپ خدا کے فضلوں کے وارث بنانے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں، خدا کے فضلوں سے محروم کرنے والا کوئی پیدا نہیں ہوا۔اب ہم دعا کرتے ہیں۔اُن کے لئے بھی دعا کرتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے اُن قربانیوں میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی، ان کے لئے بھی دعا کرتے ہیں جو حسرتیں لئے بیٹھے رہے اور ان کی تمنائیں پوری نہ ہو سکیں، ان کے لئے بھی دعا کرتے ہیں جو مظلوم ہیں اور ان کے لئے بھی آج ہم دعا کریں گے جو ظالم ہیں اُنصُرُ أَخَاكَ ظَالِماً أَو مَظْلُوماً ( بخاری کتاب المظالم والغضب حدیث نمبر: ۲۲۶۴) کا پیغام ہمیں یاد ہے جو ہمارے آقا ومولا حضرت محمد مصطفی کا پیغام ہے۔دعا کریں اللہ تعالیٰ اس ملک کو بچائے ، اس قوم کو بچائے جو کلے کے نام پر قائم ہوا تھا اور کلمہ توڑنے کے نتیجے میں ٹوٹنے کی حد تک جا پہنچا تھا۔آپ دعا ئیں کریں تو میں پھر آپ سے کہتا ہوں کہ