خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 68
خطابات طاہر جلد دوم 68 80 افتتاحی خ ب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء انگریزی زبان میں بھی بہت نمایاں طور پر لٹریچر میں کام ہوا ہے اور جو جہاں جہاں بھی کمی تھی کتابیں موجود تھیں لیکن منظر عام پر نمایاں نہیں تھیں یعنی ہمارے مربیوں کو بھی نہیں پتا تھا کہ یہ کتابیں ہمارے پاس ہیں اور مارکیٹ میں نہیں تھیں، اشاعت کا نظام مکمل نہیں تھا جس کے نتیجے میں مانگ پیدا ہوتی اور باہر سے کھینچا جاتا ہے چیز کو ، تو کتاب شائع ہوئی اور دس دس سال تک پڑی رہی سٹوروں میں، لائبریریوں میں، مبلغوں کے گھروں میں بعض جگہ تو بوریوں میں بند رہی تو کمزوری یہ تھی کہ باہر سے کھینچ کا نظام نہیں تھا۔اب یہ پاکستان کی حکومت نے جو طلب پیدا کر دی ہے نا، ہمارے خلاف پروپیگنڈا اپنی طرف سے کیا اور خدا نے ہمیں اس کا جواب دینے کی توفیق عطا فرمائی۔تو طلب ہوئی ہے اتنی طلب ہوئی ہے کہ بڑے بڑے ملکوں کے سفیر، بڑے بڑے دانشور، چوٹی کے علماء خود پیچھے پڑ کے مانگ رہے ہیں کہتے ہیں ہمیں لٹریچر دو ہم معلوم کرنا چاہتے ہیں تم کیا چیز ہو تو اس طلب نے یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے یہ کوئی انسانی ہاتھ کی چالا کی نہیں ہے اللہ کا فضل ہے کہ اب حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ باہر سے مانگ آنی شروع ہو گئی ہے اور اب بعض جگہ تو ہم کتاب بھیجتے ہیں اور پیچھے پیچھے مبلغ کا خط آجاتا ہے کہ ختم ہوگئی اور بھیجو لیکن ہر جگہ ابھی یہ صورت نہیں ہے۔اسی طرح ایک غلطی کا ازالہ جو فارسی میں ہے یہ بھی تیار ہے، احمدیت کا پیغام برمی زبان میں ، ہاں برمی زبان پیچھے رہ گئی تھی ، وہاں بھی تو آخر انسان بستے ہیں ان کا بھی حق ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی کا ترجمہ ہو چکا ہے، احمدیت کا پیغام کا ترجمہ ہو چکا ہے، امن کا پیغام کا ترجمہ ہو چکا ہے، احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا ترجمہ ہو چکا ہے، میں اسلام کو کیوں مانتا ہوں یہ ترجمہ ہو چکا ہے اور یہ ساری اکٹھی پر یس کو دی جارہی ہیں انشاء اللہ تعالی تا کہ دنیا میں کسی ملک کی انگلی نہ آئے ہمارے اوپر کہ ظالمو! تم نے کیوں ہمیں اطلاع نہیں دی کیوں ہمیں پیغام نہیں پہنچایا۔ایک سیٹ تیار کیا ہے دس کتب پر مشتمل سر دست اور اس میں اب پھیلانے کا بھی میرے ذہن میں ایک پورا نقشہ ہے، سکیم یہ ہے کہ کچھ چھوٹا لٹریچر، کچھ پمفلٹس ، کچھ بڑی بنیادی کتابیں مختلف موضوعات پر جن میں دنیا کو طلب ہے۔ان میں دنیا کی ہر زبان میں ایک مکمل سیٹ موجود ہو اور کوئی بھی دنیا کا مبلغ اپنے آپ کو بغیر ہتھیار کے محسوس نہ کرے۔اچانک ایک برمی آ جاتا ہے، ایک اٹالین آ جاتا ہے، ایک پرتگال کا آدمی آجاتا ہے، ایک کو ریا کا آدمی آجاتا ہے، جاپان کا آجاتا ہے ہر ایک کے لئے