خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 519
خطابات طاہر جلد اول 519 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 2002ء نازل ہوا کرتا تھا بجھا دیا ہے، اس نور کو مکمل نہیں کرنا چاہتا۔اس پر رسول اللہ یہ غمزدہ ہو گئے چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی اور وحی الہی کا سلسلہ پھر جاری ہو گیا۔(بخاری کتاب بدء الخلق حدیث نمبر : ۶۹۹۹) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : مخالف لوگ ارادہ کریں گے کہ خدا کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں۔یعنی بہت سے مکر کام میں لاویں گے مگر خدا اپنے نور کو کمال تک پہنچائے گا اگر چہ کافر لوگ کراہت ہی کریں۔( نزول مسیح۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۵۲۶) حضرت مسیح موعود علیہ السلام مزید فرماتے ہیں کہ :- ناعاقبت اندیش نادان دوستوں نے خدا تعالیٰ کے اس سلسلہ کی قدر نہیں کی بلکہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ یہ نور نہ چمکے۔یہ اس کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں مگر وہ یادرکھیں کہ خدا تعالیٰ وعدہ کر چکا ہے۔(الحکم مورخہ، ارمئی ۱۹۰۲ء صفحہ ۵) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- اس آیت میں تصریح سے سمجھایا گیا ہے کہ مسیح موعود چودھویں صدی میں پیدا ہوگا کیونکہ اتمام نور کے لئے چودھویں رات مقرر ہے“۔اب منظوم کلام کا ترجمہ ہے :- صلى الله (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۱۲۴) اے میرے دل ! محمد ﷺ کو یاد کر جو ہدایت کا سرچشمہ ہے اور دشمنوں کو فنا کرنے والا ہے۔۔۔وہ اللہ کا نور ہے جس نے علوم کو نئے سرے سے زندہ کر دیا ہے۔۔۔آج کمبینہ کوشش کرتا ہے کہ اس کی ہدایت کو بجھا دے اور ٹھنڈا کر دے اور اللہ اس کے نور کو ظاہر کر دے گا کسی نہ کسی دن خواہ مدت لمبی ہی ہو جائے۔(کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد نمبرے صفحہ ۷۰، قصائد احمدیہ صفحہ : ۲۶،۲۵) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزید اپنے عربی کلام میں فرماتے ہیں : " کیا تو اس نور کو بجھاتا ہے جس کے ظہور کا ارادہ ہو چکا ہے۔تیرا دونوں جہانوں میں ستیا ناس ہو اور نور تو میں روشن ہی رہے گا۔اور میں دیکھتا ہوں