خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 480
خطابات طاہر جلد دوم 480 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1999ء اور کذاب اور دجال رکھا گیا۔مجھے گالیاں دی گئیں اور طرح طرح کی دلآ زار باتوں سے مجھے ستایا گیا۔۔۔سواے میرے مولا قادر خدا! اب مجھے راہ بتلا اور کوئی ایسا نشان ظاہر فرما جس سے تیرے سلیم الفطرت بندے نہایت قوی طور پر یقین کریں کہ میں تیرا مقبول ہوں اور جس سے ان کا ایمان قوی ہو اور وہ تجھے پہچانیں۔۔۔اور دنیا میں تیرا جلال چمکے اور تیرے نام کی روشنی اس بجلی کی طرح دکھلائی دے۔۔۔دیکھ ! میری روح نہایت تو کل کے ساتھ تیری طرف ایسی پرواز کر رہی ہے جیسا کہ پرندہ اپنے آشیانہ کی طرف آتا ہے۔سو میں تیری قدرت کے نشان کا خواہش مند ہوں لیکن نہ اپنے لئے اور نہ اپنی عزت کے لئے بلکہ اس لئے کہ لوگ تجھے پہچانیں اور تیری پاک راہوں کو اختیار کریں۔۔۔میں تجھے پہچانتا ہوں کہ تو ہی میرا خدا ہے اس لئے میری روح تیرے نام سے ایسی اُچھلتی ہے جیسا کہ شیر خوار بچہ ماں کے دیکھنے سے لیکن اکثر لوگوں نے مجھے نہیں پہچانا اور نہ قبول کیا۔اس لئے نہ میں نے بلکہ میری روح نے اس بات پر زور دیا کہ میں یہ دعا کروں کہ اگر میں تیرے حضور میں سچا ہوں۔۔۔تو ایسا کر کہ جنوری ۱۹۰۰ء سے اخیر دسمبر ۱۹۰۲ء تک میرے لئے کوئی اور نشان دکھلا اور اپنے بندے کے لئے کوئی اور گواہی دے جس کو زبانوں سے کچلا گیا ہے۔دیکھ! میں تیری جناب میں عاجزانہ ہاتھ اٹھاتا ہوں کہ تو ایسا ہی کر۔“ 66 تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه: ۵۰۷ تا ۵۱۲) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس آخری اقتباس کے ساتھ آئیے ہم سب بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی غلامی میں ہاتھ اٹھا ئیں اور ہماری روح بھی اسی طرح خدا کے حضور بے چین ہو کر اچھلے جس طرح بچہ اپنی ماں کے دودھ کے لئے اچھلتا ہے اور اسی بے قراری کے ساتھ ہمارے دل سے دعائیں بلند ہوں اور رب العزت ان دعاؤں کو قبول فرمائے۔آمین آئیے اب اس افتتاحی دُعا میں میرے ساتھ شامل ہو جائیں۔(دعا) امین