خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 475 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 475

خطابات طاہر جلد دوم 475 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1999ء ہورہا ہے اور ہر جگہ ہورہا ہے اور باطنی صورت میں بھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔۲۰ /اکتوبر ۱۸۹۹ء کو خواب میں مجھے یہ دکھایا گیا کہ ایک لڑکا ہے جس کا نام عزیز ہے اور اس کے باپ کے نام کے سر پر سلطان کا لفظ ہے۔وہ لڑکا پکڑ کر میرے پاس لایا گیا اور میرے سامنے بٹھایا گیا۔میں نے دیکھا کہ وہ ایک پتلا سالڑ کا گورے رنگ کا ہے۔میں نے اس خواب کی یہ تعبیر کی ہے کہ عزیز عزت پانے والے کو کہتے ہیں اور سلطان جو خواب میں اس لڑکے کا باپ سمجھایا گیا ہے۔یہ لفظ یعنی سلطان عربی زبان میں اُس دلیل کو کہتے ہیں جو ایسی بین الظہور ہو جو باعث اپنے نہایت درجہ کے روشن ہونے کے دلوں پر اپنا تسلط کر لے گویا سلطان کا لفظ تسلط سے لیا گیا ہے اور سلطان عربی زبان میں ہر ایک قسم کی دلیل کو نہیں کہتے بلکہ ایسی دلیل کو کہتے ہیں جو اپنی قبولیت اور روشنی کی وجہ سے دلوں پر قبضہ کر لے اور طبائع پر اس کا تسلط عام ہو جائے۔پس اس لحاظ سے کہ خواب میں عزیز جو سلطان کا لڑ کا معلوم ہوتا ہے اس کی یہ تعبیر ہوئی کہ ایسا نشان جولوگوں کے دلوں پر تسلط کرنے والا ہو گا ظہور میں آئے گا اور اس نشان کے ظہور کا نتیجہ جس کو دوسرے لفظوں میں اس نشان کا بچہ کہہ سکتے ہیں دلوں میں میرا عزیز ہونا ہوگا جس کو خواب میں عزیز کے تمثل سے ظاہر کیا گیا ہے۔“ ( تذکرہ: ۲۸۵،۲۸۴) ضمناً یہ بھی میں بتادوں کہ یہ رویا اپنے ظاہری معنوں میں بھی پوری ہو چکی ہے۔جب حضرت اقدس مسیح موعوعلیہ الصلوۃ والسلام کو یہ رویا دکھائی گئی تھی تو حضرت مرزا سلطان احمد صاحب اور مرز ا عزیز احمد صاحب کا بطور نشان آنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔چنانچہ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب مرزا عزیز احمد صاحب کے پیچھے پیچھے آئے اور یہ نشان ظاہری صورت میں بھی پورا ہو گیا۔مرز ا عزیز احمد صاحب جو حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے صاحبزادہ ہیں فروری ۱۹۰۶ء میں اپنے دادا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو گئے۔فروری ۱۹۰۶ء