خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 470 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 470

خطابات طاہر جلد دوم 470 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1999ء اس طرح جماعت احمدیہ کی صداقت کا سورج ہر ایک آنکھ پر طلوع ہو جاتا ہے سوائے اندھوں کے۔اب میں واپس اُس مباہلے کی طرف آتا ہوں۔ہمارے علماء کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ میں ساری دنیا کی جماعتوں کا سر براہ ہوں اور میرا کام یہ نہیں ہے کہ ہر للو پنجو کو جو اٹھ کر مباہلہ کا چیلنج کرے اس کا مباہلہ قبول ہی کروں یا اُسے جوابی چیلنج دوں لیکن پتا نہیں کیوں لوگ سمجھتے نہیں ہیں؟ اس لئے واقعہ یہ ہوا کہ کراچی کے دو مربی صاحبان نے بظاہر ایک مخالف کے جال میں پھنس کر مباحثہ میں اس کو بلوالیا اور وہ پہلے سے ارادہ لے کر آیا تھا کہ مباحثہ کے دوران میں اچانک مباہلہ کا چیلنج پیش کر دوں گا۔چنانچہ اس نے مناظرہ کے دوران ایک مباہلے کا چیلنج پیش کر دیا۔باوجود اس کے کہ مجھ پر لازم نہیں تھا کیونکہ میں نے تو اس کو کوئی چیلنج نہیں دیا تھا۔مجھ پر ہرگز لازم نہیں تھا کہ اس کے چیلنج کو من وعن قبول کرتا۔اگر کرنا بھی تھا تو اس سے شرطیں لگائی جاتیں کہ تم اپنے پیچھے قوم کے راہنما بتاؤ۔کون تمہاری تائید میں ہیں؟ کون تسلیم کرتا ہے کہ ہاں اگر تم ہار گئے تو پھر ہم احمدیت کی فتح کو قبول کر لیں گے مگران سب باتوں سے قطع نظر ہمارے دو بھولے بھالے مربیان نے اس کا مباہلے کا چیلنج نہ صرف قبول کر لیا بلکہ میرا چیلنج اس کو دے دیا۔اب اس کا اُس سے کیا تعلق تھا ان کو کوئی حق نہیں تھا یہ کام کرتے مگر میں سمجھتا ہوں کہ وہ احمدی فوج کے لڑنے والے ہی تھے اس لئے انہوں نے جو تسلیم کر لیا میں بھی تسلیم کرتا ہوں اور اس پہلو سے میں اس مباہلے کے چیلنج کو قبول کر چکا ہوں۔اب میں وہ مباہلہ جس پر دستخط ہوئے ہیں اس کے بعض ضروری الفاظ آپ کے سامنے سناتا ہوں تا کہ آپ اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ مباہلہ کرنے والا دراصل اسی مباہلہ کے دوران ہی جھوٹا ثابت ہو چکا ہے۔الفاظ جو پیش کئے گئے وہ یہ ہیں۔میں نے بڑے واشگاف الفاظ میں احمدیت کے دعاوی دشمن کے سامنے رکھے تھے جن کے متعلق یہ کہا تھا کہ ایک ایک کے متعلق یہ اعلان کرو کہ یہ جھوٹا دعوی ہے، یہ جھوٹا دعوی ہے، یہ جھوٹا دعویٰ ہے۔اس نے کوئی ایسا دعویٰ نہیں کیا اور جو الفاظ ہیں وہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جماعت احمدیہ کے معاندین یہ کہتے ہیں کہ ”جماعت احمد یہ یہ عقائد رکھتی ہے کہ بانی جماعت احمدیہ مرزا غلام احمد قادیانی خدا تھے۔لَعْنَتُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِین۔(حضور انور نے حاضرین کو فرمایا کہ آپ سب بھی کہیں لَعْنَتُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِین۔جس پر حاضرین نے لَعْنَتُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِین کہا۔( حضور انور نے فرمایا کہ آج ایک کروڑ داخل ہونے والوں کے