خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 461
خطابات طاہر جلد دوم 461 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1998 ء اب خیال ہوتا ہے کہ وہ الہام جو ہوا تھا کہ کون کہہ سکتا ہے اے بجلی آسمان سے مت گر شاید اسی سے متعلق ہو۔اگر آسمانی بجلی نے گرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو یا درکھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان الفاظ میں الہام ہوا۔کون کہہ سکتا ہے اے آسمانی بجلی۔اے بجلی آسمان سے مت گر۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ الہام بھی اسی کے متعلق تھا۔پھر ۱۸۹۸ء میں ہی یہی الہام دوسرے لفظوں میں ہوا۔ان اللہ لايغير ما بقوم حتى يغيروا ما بانفسهم يقينا اللہ تعالی کسی قوم کی حالت تبدیل نہیں کرتا جب تک کہ وہ اپنے حال کو خود تبدیل نہ کریں۔انه اوى القرية اني مع الرحمن اتيك بغتة۔ان الله مــوهـن كيد الکفرین۔ترجمہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ اس چیز کو نہ بدلیں جو ان کے نفسوں میں ہے۔وہ اس بستی کو کچھ تکلیف کے بعد پناہ میں لے لے گا۔میں رحمان کے ساتھ تیرے پاس اچانک آنے کو ہوں۔اللہ تعالیٰ کافروں کے منصوبوں کو توڑنے والا ہے۔( تذکرہ صفحہ ۲۶۱) یہاں اس بستی سے کیا مراد ہے؟ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں اس بستی سے مراد تو قادیان ہی تھی اور اب اس بستی سے میں سمجھتا ہوں وہی بستی مراد ہے جو قادیان کی نمائندگی میں ربوہ کے طور پر قائم کی گئی ہے اور اس بستی کے متعلق دشمنوں کے بہت بد ارادے ہیں اور انہیں بہت تکلیف پہنچائی گئی ہے۔اس بستی کو کچھ تکلیف کے بعد پناہ میں لے لوں گا۔یہ ایک بہت عظیم الشان خوشخبری ہے جس کے لئے ہمیں دعائیں بھی کرنی چاہئیں اور جہاں تک مقدور ہے کوشش بھی کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ اس بستی کو اب اپنی پناہ میں لے لے اس کی پناہ میں تو ہمیشہ رہی ہے مگر ظاہری طور پر دشمن کے شر سے بھی اپنی پناہ میں لے لے کیونکہ اب زمانہ لمبا ہو رہا ہے۔خاص طور پر میں نے قریہ کی تعریف میں ربوہ ہی کو پیش کیا تھا کیونکہ ربوہ پر یہ حالات پورے آ رہے ہیں۔پھر رحمان کے ساتھ تیرے پاس اچانک آنے کو ہوں انى مع الرحمن اتیک بغتة یہ عجیب ہے کہ رحمن خود یہ الہام فرمارہا ہے اور یہ فرمارہا ہے کہ میں رحمان کے ساتھ اچانک تیری مددکو آؤں گا جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی مددکروں گا کہ میری رحمانیت ہر پہلو سے جلوہ گر ہوگی اور اسی رحمانیت ہی کا نتیجہ ہے کہ میں تیری مدد کے لئے آنے والا ہوں۔اللہ تعالیٰ کافروں کے منصوبوں کو توڑنے والا ہے۔یہ بھی ایک پیشگوئی ہے جو انشاء اللہ تعالیٰ میں امید رکھتا ہوں کہ ہمارے دیکھتے دیکھتے ہماری آنکھوں کے سامنے پوری ہوگی۔