خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 459 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 459

خطابات طاہر جلد دوم 459 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1998ء ”خدا نے۔۔۔مجھے بار بار الہام دیا ہے ( یہاں کیا ہے کا لفظ نہیں الہام دیا ہے۔جس سے غیر معمولی موہبت کی طرف اشارہ ہے۔) کہ اس زمانہ میں کوئی معرفت الہی اور کوئی محبت الہی تیری معرفت اور محبت کے برابر نہیں ( ضرورة الامام روحانی خزائن جلد ۱۳ صفه ۵۰۲) یعنی اس تمام زمانے میں اللہ تعالیٰ نے جو معرفت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمائی اور جو محبت اپنے رب کے لئے آپ کے دل میں موجزن تھی تمام زمانہ میں ڈھونڈ کر دیکھواس جیسا انسان تمہیں اور کہیں دکھائی نہیں دے گا۔وو 4 جولائی 1898ء کو یہ الہام ہوا۔جہاں براہین احمدیہ میں اسرار اور معارف کے انعام کا اس عاجز کی نسبت ذکر فرمایا گیا ہے وہاں احمد کے نام سے یاد کیا گیا ہے جیسا کہ فرمایا یـا احـمـد فـاضـت الرحمة علی شفتیک اور جہاں دنیا کی برکات کا ذکر کیا گیا ہے وہاں عیسی کے نام سے پکارا گیا ہے جیسا کہ میرے الہام میں براہین احمدیہ میں فرمایایا عیسی انی متوفیک ورافعک الی و مطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الـذيـن كـفـروا الى يوم القيامة _ایسا ہی وہ الہام ہے جوفر مایا کہ ”میں تجھے برکت دوں گا، یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گئے یہ وہ ستر ہے جو مہدی اور عیسی نام کی نسبت مجھے کو الہام الہی سے کھلا ( تذکرہ : ۲۶۴) یہ بہت عظیم الشان ستر ہے جس سے آپ نے الہام کی بنا پر پردہ اٹھایا ہے کہ جہاں بھی مہدی کی فتوحات کا ذکر ہے وہاں اسلام کے روحانی غلبہ کا ذکر ہے۔جہاں عیسی نام سے خوشخبریاں دی گئی ہیں وہاں دنیاوی طور پر جماعت کی غیروں پر برتری کا ذکر ہے اور ان دونوں میں نمایاں فرق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رسول اللہ ﷺ کی برکت سے مہدویت کے طور پر جو دین اسلام کی خدمت کی ہے اور جو خدمت ابھی جاری ہے اس کا دنیاوی کامیابیوں کے مقابل پر بہت اونچا مقام ہے۔جولائی ۱۸۹۸ء کی چوتھی تاریخ تھی جبکہ یہ الہام ہوا اور آجکل یہ جولائی کے دن ہی ہیں اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خاص طور پر یہ لکھنا کہ جولائی کی چوتھی تاریخ تھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمیں متوجہ کرنا مقصود ہے اور آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی متوجہ کرنا مقصود ہے کہ انہی