خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 449 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 449

خطابات طاہر جلد دوم 449 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1998ء توفیق دے اور ضرورت مند اس کا محتاج ہو تو اسے ساتھ لے کر چلیں اور جس منزل کی تلاش میں ہے اسے وہاں تک پہنچادیں۔اسی طرح اپنے بھائیوں کے لئے نرم نظر رکھیں ، ان کے اوپر پیار اور محبت کی نظر ڈالیں اور رستہ چلتے تکلیف دہ چیزوں کو دور کریں۔اس سلسلہ میں پہلے بھی میں نے لندن میں ہونے والے خطبہ میں ہدایت دی تھی کہ اپنا دستور بنالیں کہ وہ چیز جو تکلیف پہنچاتی ہے اسے دور کرنے کی کوشش کریں۔بعض لوگ کیلے کا چھلکا پھینک دیتے ہیں کوئی اور ایسی چیز مثلاً ہڈی یا کوئی اور نوک دار چیز جہاں کہیں بھی آپ کو یہ چیزیں دکھائی دیں ان کو اٹھا لیں اور جہاں تک ممکن ہے پلاسٹک کا کوئی ہلکا تھیلا اپنی جیب میں رکھیں اور میں انتظامیہ سے توقع رکھتا ہوں کہ کثرت سے ایسے تھیلے طلب کرنے والوں کو مہیا کر دیں جنہیں وہ اپنی جیب میں رکھیں۔ہلکی سی چیز ہے جہاں کہیں بھی آپ کوئی ایسی چیز دیکھیں جو نقصان دہ ہو سکتی ہے اس کو اٹھا کر تھیلے میں ڈال لیں، بائیں ہاتھ سے اٹھا ئیں کیونکہ یہ بھی سنت ہے کہ رڈی چیزوں کو دائیں ہاتھ سے نہیں اٹھانا چاہئے جیسا کہ آپ سے توقع ہے ہاتھ اچھی طرح دھو لیں گے۔اس کا ایک دوسرا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب آپ دوسروں کی پھینکی ہوئی تکلیف دہ چیزیں اٹھاتے ہیں تو لازماً اپنی طرف سے بھی کوئی ایسی چیز نہیں پھینکیں گے جو دوسروں کے لئے تکلیف کا موجب ہو۔اسی طرح گلیوں میں شور ڈالنا، بازاروں میں اس طرح پھر نا کہ لوگوں کے لئے ایک تکلیف کا موجب ہو، ان کی نظر کو تکلیف دے یا ان کے کانوں کو آپ کا شور تکلیف دے ان سب چیزوں سے کلیہ پر ہیز رکھیں۔آپ کو دیکھنے والی آنکھیں دیکھ رہی ہیں۔کچھ ایسی آنکھیں ہیں جو اس غرض سے دور دور سے چل کے آئی ہیں کہ دیکھیں جماعت احمدیہ کے جلسہ میں کیا تصویر ابھرتی ہے، کس قسم کے یہ لوگ ہیں اور اتنے بڑے اجتماع میں کیا ان کا نظم و ضبط قائم رہتا ہے یا نہیں؟ سب دنیا کو تو تعلیم دیتے ہیں کہ ہم تمہاری بھلائی کے لئے ہیں، کیا خود بھی دنیا کی بھلائی کے لئے ہونے کا حق ثابت کرتے ہیں کہ نہیں ؟ اس لئے کچھ آنکھیں تو اس غرض سے دیکھنے کے لئے آئی ہیں۔کچھ آنکھیں ایسی ہیں جن کو ویسے ہی آپ دکھائی دیں گے اور جلسے کے متعلق اس کا کوئی نہ کوئی اثر ان کی طبیعتوں پر پڑے گا۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ یہ ساری باتیں پیش نظر رکھیں۔مزید حدیث نبوی میں آیا ہے کہ اپنے بھائی کو کچھ دے دینا تیرے لئے صدقہ ہے۔یہاں اکثر آنے والے خدا تعالیٰ کے فضل کے