خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 448 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 448

خطابات طاہر جلد دوم 448 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1998ء کی افتتاحی تقریر کے وقت گزشتہ سال کی سب سے زیادہ حاضری سے دگنی حاضری ہو چکی ہے اور ابھی آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کہاں تک یہ حاضری بڑھے گی مگر میں یہ دعا کرتا ہوں کہ اللہ کے پاک بندوں سے حاضری بڑھے ان پاک بندوں سے جن پر اللہ کے پیار کی نظریں پڑیں۔اس کے بعد اب میں افتتاحی خطاب کا با قاعدہ آغاز کرتا ہوں۔جو تلاوت میں نے کی ہے اسی تعلق میں چند احادیث نبویہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔صلى الله عَنْ أَبِي ذَرِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ لا تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ وَأَمُرُكَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهْيُكَ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَ ارشَادُكَ الرَّجُلِ فِي أَرْضِ الضَّلَالَ لَكَ صَدَقَةٌ وَبَصَرُكَ لِلرَّجُلَ الرَّدِيءِ الْبَصَرِ لَكَ صَدَقَةٌ وَاء مَاطَتُكَ الْحَجَرَ وَالشَّوكَةَ وَالْعَظْمَ عَنِ الطَّرِيقِ لَكَ صَدَقَةٌ وَافْرَاغُكَ مِنْ دَلْوِكَ فِي دَلْوِأَخِيُكَ لَكَ صَدَقَةٌ ( ترمذی کتاب البر والصلۃ حدیث: ۱۸۷۹) یہ حدیث ترمذى أَبْوَابُ الْبِرِّ وَالصَّلَةِ سے لی گئی ہے۔حضرت ابوذرغفاری بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔اپنے بھائی کے سامنے تیرا مسکرانا تیرے لئے صدقہ ہے۔تیرا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یعنی اچھی باتوں کا حکم دینا اور بُری باتوں سے روکنا ایک صدقہ ہے۔بھٹکے ہوئے کو رستہ دکھانا تیرے لئے صدقہ ہے۔کسی نابینا کی دستگیری کرتے ہوئے راہ دکھانا تیرے لئے صدقہ ہے۔پتھر کا نٹایا ہڈی رستہ سے ہٹا دینا تیرے لئے صدقہ ہے اور اپنے حق میں سے اپنے بھائی کو کچھ دے دینا تیرے لئے صدقہ ہے۔اس حدیث نبوی کے سننے کے بعد اس افتتاحی تقریرکا سارا مضمون آپ کی سمجھ میں آجانا چاہئے۔آپ اس وقت ایک ایسے جلسے میں تشریف لائے ہیں جو اللہ کی خاطر ہے اور اللہ ہی کی خاطر آپ کو اپنا اسلوب بنانا ہو گا۔اس پہلو سے یا درکھیں کہ رستہ چلتے مسکراہٹیں بکھیر دیں ایسی مسکراہٹیں جو اور چہروں پر مسکراہٹیں پیدا کرنے والی ہوں۔پھر رستہ چلتے اپنے ایسے بھائیوں کی راہنمائی کریں جو کسی جگہ کی تلاش میں ہوں اور اگر خدا