خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 442
خطابات طاہر جلد دوم 442 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1997ء کہ ہندو لکھنے والوں کا جو لیکھرام سے گہراتعلق رکھتے تھے ان کا یہ اقرار ہے اور یہ وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اُس کی شکل دکھادی تھی ورنہ پتا نہیں کس مظلوم کو وہ پکڑ کر تختہ دار پر چڑھا دیتے اور یہ لکھ دیتے کہ قاتل پکڑا گیا۔وہ لکھتا ہے۔تب پنڈت جی کی ما تا اور دھرم پتنی اُس کی طرف دوڑیں۔اُس وقت اس بے رحم ظالم نے پنڈت جی کی بوڑھی ماتا کو بیلنا اس زور سے مارا کہ وہ اچانک چوٹ لگنے کے سبب سے بے ہوش ہو کر گر گئیں اور وہ بے ایمان قاتل فرار ہو گیا۔کچھ دیر کے بعد لوگ جمع ہو گئے۔اور پنڈت جی کو ہسپتال لے گئے۔یہ کچھ دیر کے بعد والی بات غلط ہے یہ جو شور پڑا تھا۔اُس کے ساتھ ہی دھڑا دھڑ لوگ اُوپر چڑھنے شروع ہوئے تھے اور یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سے تو قاتل نہیں گزرا، او پر جا کے دیکھو، اوپر جا کے دیکھا تو وہاں اُس کا کوئی نشان نہیں تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی بریت پر اس لحاظ سے اکتفا نہیں فرمایا کہ حکومت کی طرف سے تحقیقی کارروائی کے نتیجہ میں آپ کو بری قرار دیا گیا۔آپ خدا تعالیٰ کی طرف سے بریت چاہتے تھے۔دشمن مسلسل آپ پر الزام لگا رہا تھا اور بے حد غلیظ زبان استعمال کر رہا تھا کہ یہ قاتل ہے، یہ الہامی قاتل ہے، یہ فلاں قاتل ہے، اس سے ہم پیٹیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سب باتوں کا ازالہ اس طرح فرمایا۔اب دیکھئے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شخصیت کس شان کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔فرمایا کہ یہ لوگ الزامات لگا رہے ہیں۔ابھی تک کہہ رہے ہیں کہ میں قاتل ہوں۔اس کا ایک حل ہے جو میں پیش کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ ایسا شخص میرے سامنے قسم کھائے جس کے الفاظ یہ ہوں کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ شخص سازش قتل میں شریک یا اس کے حکم سے واقعہ قتل ہوا ہے۔پس اگر یہ میچ نہیں ہے تو اے قادر خدا ایک برس کے اندر مجھ پر عذاب نازل کر جو ہیبت ناک عذاب ہو گر کسی انسان کے ہاتھوں سے نہ ہو۔(کسی انسان کے ہاتھوں سے نہ ہو ورنہ لوگ پھر شک کریں گے ) اور نہ انسان کے منصوبوں کا اس میں کچھ دخل متصور ہو سکے۔پس اگر یہ شخص ایک برس تک میری بددعا سے بچ گیا تو میں مجرم ہوں اور اس سزا کے لائق کہ ایک قاتل کے لئے ہونی چاہئے۔اب اگر کوئی بہادر کلیجے والا آر یہ جو اس طور سے تمام دنیا کو شبہات سے چھڑاوے تو اس