خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 429 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 429

خطابات طاہر جلد دوم 429 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1997ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مضمون مباہلہ کا نمونہ پیش کیا تحریرا اور خاص طور پر آریہ مخالفین کو اس طرف متوجہ فرمایا۔اس کے شائع ہونے پر چیک کرنا ہے۔نمونہ مضمون مباہلہ از طرف آریہ صاحب فریق مخالف میں فلاں ابن فلاں قسم کھا کر اور حلف اٹھا کر کہتا ہوں کہ میں نے اوّل سے آخر تک رسالہ سرمہ چشم آریہ کو پڑھ لیا اور اُس کے دلائل کو بخوبی سمجھ لیا۔میرے دل پر ان دلیلوں نے کچھ اثر نہیں کیا اور نہ میں ان کو سچ سمجھتا ہوں اور میں اپنے پر میشر کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جیسا کہ ویدوں میں لکھا ہے میں اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہوں کہ میرے رُوح اور جیو کا کوئی رب یعنی پیدا کنندہ نہیں ایسا ہی میرا جسمی مادہ بھی پیدا کرنے والے سے بکلّی بے نیاز ہے۔میں پر میشر کی طرح خود بخود ہوں اور واجب الوجود اور قدیم اور انادی ہوں۔میری روح اور میراجسمی مادہ کسی دوسرے کے سہارے سے نہیں بلکہ قدیم سے یہ دونوں ٹکڑے میرے وجود کے قائم بالذات ہیں۔ایسا ہی وید کی اس تعلیم پر بھی میرا کامل یقین ہے کہ مکتی یعنی نجات ہمیشہ کے لئے کسی کو نہیں مل سکتی اور ہمیشہ عزت کے بعد ذلّت کا دورہ لگا ہوا ہے۔میں وید کی ان سب تعلیموں کو دلی یقین سے مانتا ہوں کہ پر میشر ایک ذرہ کے پیدا کرنے پر بھی قادر نہیں اور نہ بغیر عمل کسی عامل کے ایک ذرہ کسی پر رحمت کر سکتا ہے اور نہ بغیر ہزاروں جونوں میں ڈالنے کے ایک ذرہ گناہ تو بہ یا استغفار یا کچی پرستش اور محبت سے بخش سکتا ہے اور میں وید کے رُو سے اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ چاروں وید ضر ور ایشر کا کلام ہے جو ہمیشہ اور قدیم سے ہر نئی دنیا میں ہمارے ہی آریہ دیس میں چار رشیوں پر جو اگئی اور والیو وغیرہ ہیں اتر تا رہا ہے۔کبھی اس سے باہر نہیں اترا اور نہ کبھی ہماری زبان سنسکرت کے سوا کسی دوسری زبان میں آیا اور ہمارے دیس سے باہر جو ہزاروں پیغمبر آئے ہیں۔( یعنی آریہ ورت کے دلیں ہندوستان سے باہر جو ہزاروں پیغمبر آئے ہیں ) اور کئی کتابیں لائے ہیں۔میں دلی یقین سے ان سب