خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 40 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 40

خطابات طاہر جلد دوم 40 40 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء جماعت نے جس حیرت انگیز طور پر اس ذمہ داری کو نبھایا ہے، ساری دنیا کی جماعتوں کا فرض ہے کہ ان کو دعاؤں میں یاد رکھیں۔ان سارے کارکنان کو اور ان لوگوں کو جن میں بوڑھے بھی تھے،شدید سردیوں میں جبکہ درجہ حرارت منفی ہیں تک بھی پہنچ جاتا رہا ہے، یہ لوگ ڈیوٹیوں پر کھڑے رہے ہیں اور بالکل پرواہ نہیں کی۔بعض دوستوں کو میں دیکھتا تھا، میں حیران ہوتا تھا کہ اس عمر کے آدمی اتنی تکلیف کیوں برداشت کرتے ہیں؟ ان کو میں سمجھاتا تھا، روکتا تھا لیکن مجال ہے جو اس معاملے میں میرے ساتھ تعاون کریں۔ہر دوسری چیز میں کیا ہے، اس بارے میں میری بات نہیں سنتے تھے۔کہتے تھے ! ٹھیک ہے آپ جائے ادب ہوں گے لیکن یہ کام ہم نے نہیں چھوڑنا اور بچے چھوٹے چھوٹے پیروں پر کھڑے ہیں اور پھر یہاں کے انگریز احمدیوں کے بچے بھی ، بعض ان میں سے آج کل بھی یہاں باہر کھڑے ہیں۔بڑی فدائیت کے ساتھ یہ سارا کام کیا ہے اور جماعت کو محسوس بھی نہیں ہونے دیا کہ ایک بہت بڑا عملہ جو مستقل طور پر اس کام پر مقرر تھا وہ اب نہیں ہے، ایک منٹ کے لئے یہ احساس نہیں ہونے دیا۔پھر مجالس سوال و جواب کے دوران، خطبات کے دوران، جلسوں کے دوران، مجھے مختلف ملاقاتیں کرنی پڑتی تھیں دنیا کے صائب الرائے لوگوں سے ان کی ملاقاتوں کے دوران سفروں کے دوران یہ ساری خدمات طوعی طور پر مجلس انگلستان کو ادا کرنے کی توفیق ملی ہے اور جب ہم سفر پر گئے تو یورپ والوں کو بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے حصہ ملا۔شعبہ ضیافت بھی ایک اہم شعبہ ہے جس کے بغیر جماعت احمدیہ کمل نہیں ہوتی کیونکہ پانچ شاخیں جو خدمت اسلام اور خدمت خلق کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قائم فرمائیں ان میں ایک شاخ ضیافت کی بھی تھی اور آپ جانتے ہیں کہ جہاں خلیفہ وقت ہو وہاں ہر طرف سے دنیا سے لوگ آتے ہیں اور یہاں بھی دنیا کے کونے کونے سے پہنچ رہے تھے۔ان کی سیر گاہ ہی انگلستان بن گئی تھی ، ان کا مقصد یہی تھا کہ جب موقع ملے، جب چھٹی ملے تو انگلستان پہنچیں اور پھر روزانہ باہر سے آنے والے بھی آیا کرتے تھے اور دودن تو خصوصیت کے ساتھ ، چھٹی کے دنوں میں کثرت سے اردگرد سے لوگ آتے تھے اور پھر مقامی طور پر ان میں لندن سے اور Greater London سے یعنی بڑے لندن سے جن دنوں میں روزانہ مجلس سوال و جواب ہوتی تھی اور بیش تر وقت جب سے میں آیا