خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 425 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 425

خطابات طاہر جلد دوم 425 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1997ء رہا ہے کہ اخلاص اور تقویٰ کے ساتھ اٹھائے ہوئے چند قدم سینکڑوں میل تک کے سفر کا متبادل بن سکتے ہیں اور آنے والے بڑھتے ہوئے سفر انہیں چند قدموں کا آگے بڑھنے کا مضمون ہی پیش کرتے ہیں۔اگر چہ وقت ان قدموں کا رستہ روک دیتا ہے مگر خدا تعالیٰ کے ہاں رُکے ہوئے وقت کی کوئی حیثیت نہیں وہ ان کو بڑھاتا چلا جاتا ہے۔پس وہ سفر جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ۱۸۹۷ء میں اختیار فرمایا، آج وہی سفر ہے جو ہمارے لئے بہت بڑی بڑی مسافتیں لے کے آیا ہے اور تمام عالم پرمحیط ہو چکا ہے۔یہ و مختصر کار روائی کا خلاصہ تھا۔جو ۱۸۹۷ء میں ہوئی۔اب میں ایک اہم بنیادی مضمون کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔۱۸۹۷ء کا سال وہ سال ہے جو مباہلہ کے لئے ایک غیر معمولی شہرت اختیار کر گیا اور ہمارا یہ سال بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے مباہلہ کی وجہ سے ایک بہت بڑی شہرت اختیار کر گیا ہے۔اُس زمانہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک مباہلہ جو لیکھرام پشاوری کے ساتھ ہوا تھا اور اُس کی ہلاکت پر ہی منتج نہیں ہوا بلکہ اُس کے بعد پے در پے نشانات کی صورت میں ظاہر ہوا۔آج میں اُس کا تذکرہ آپ کے سامنے کرتا ہوں۔۱۸۹۷ء کا سال ہے جس میں قطعی طور پر آخری صورت میں حکومت اور عدالتوں کی طرف سے یہ فیصلہ سنایا گیا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اس ہلاکت میں کوئی بھی عمل دخل نہیں حالانکہ تمام ہندوستان کے آریہ اور ان کی پشت پناہی میں دوسرے ہندو بھی اس بات پر مصر تھے کہ جیسے بھی بن سکے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس میں ملوث کیا جائے اور ۱۹۹۷ء ہی میں اب آخری صورت میں وہ رپورٹ حکومت کی طرف سے شائع ہوئی ہے جس میں مجھے ضیاء الحق کے جہاز کے پھٹنے سے بری الذمہ قرار دیا گیا ہے یعنی ان تمام رستوں کی پیروی کے باوجود جو غیروں نے پیش کئے کہ ان رستوں کو تلاش کرو، وہاں مرزا طاہر احمد ملوث دکھائی دے گا اُن رستوں کو تلاش کرو وہاں ملوث دکھائی دے گا۔ساری کوششوں کے بعد آخر حکومت کو یہ تسلیم کرنا پڑا اور یہ اُس عدالت کا یہ بیان جو اس پر قائم کی گئی تھی اس حادثہ کی کوئی بھی وجہ سمجھ نہیں آئی۔ہر طرح کوشش کر کے دیکھ لی گئی اس کا کسی انسانی سازش کے ساتھ کوئی بھی تعلق ثابت نہیں ہوا اور ہوا کیوں؟ خود یہ بھی ایک معمہ ہے۔جس کی ہمیں کچھ سمجھ نہیں آسکی اس لئے اس دفتر کو بند کیا جاتا ہے۔بالکل اسی طرح لیکھرام کا دفتر بند ہوا تھا۔تمام کوششوں کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کوملوث نہیں کیا جا سکا۔آپ کی برات