خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 404 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 404

خطابات طاہر جلد دوم 404 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1996ء کی سیرت کا حیرت انگیز مضمون ہے کہ کیسے چھوٹے سے چھوٹے انسان کی خاطر بھی آپ گویا جھک گئے اور اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے آپ نے اپنی ہمہ تن کوششیں صرف فرما دیں اور سر بلندی ایسی ہے کہ خدا کے سوا کسی کو کچھ نہیں سمجھا۔جب بھی ضرورت پیش آئی خدا سے مانگا اور جب خدا کے سوا غیر اللہ کی طرف جھکنے کا سوال آیا تو اس طرح دھتکار دیا کہ اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں سمجھی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات پر غور کریں اور پھر سمجھیں کہ آپ کو کیا بننا ہے؟ ہرگز یہ مراد نہیں کہ آپ دنیا کو کچھ نہ سمجھیں، بڑے بن بن کے ان سے باتیں کریں اور کہیں ہم اعلیٰ اور افضل ہیں، ہمیں خدا نے اتنا بڑا مرتبہ عطا فرمایا ہے تم کیا چیز ہو۔جب آپ یہ کریں گے دنیا بھی آپ کو دھتکار دے گی اور خدا بھی آپ کو دھتکار دے گا۔دنیا کو کچھ نہیں سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ دنیا کی طرف جاتے ہیں تو ان سے طلب کرنے کے لئے نہیں جاتے اور اس میں ایک بہت بڑا گہرا مضمون ہے جو دعوت الی اللہ کرنے والوں کے لئے ایک بڑی روشنی بخشتا ہے اگر آپ دنیا کے عدد کی خاطر ، عددی برتری کی خاطر، ان کے اموال اور دولت کی برتری کی خاطر اگر ان کی سیاسی برتری کی خاطر ان کی تمنا کرتے ہیں اور ان کی طرف پہنچتے ہیں تو آپ کے متعلق یہ بات درست نہیں کہ آپ نے دنیا کو کچھ نہ سمجھا لیکن اگر خدا کی خاطر ان کو کچھ عطا کرنے کے لئے بطور ترحم ان کی طرف بڑھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ان کی نجات آپ سے وابستہ ہے کیونکہ آپ خدا سے وابستہ ہیں اور پھر ان کی خدمت کرتے ہیں اور ان کے سامنے جھکتے ہیں تو یہ توحید کا مضمون ہے تو ایک ہی طرح کے ملتے جلتے مضامین ایک طرف سے دیکھیں تو وہ شرک خالص دکھائی دیتا ہے، دوسری طرف سے دیکھیں تو وہ تو حید کامل دکھائی دیتی ہے، یہ فیصلہ خدا کی نظر نے کرنا ہے جو انسان کے ضمیر کی پاتال تک نگاہ رکھتا ہے۔پس اپنے ضمیر کو ٹولتے ہوئے اس راہ میں آگے بڑھیں ، اپنے نفس کا تجزیہ کرتے رہیں۔ہمیں حقیقت میں دنیا سے کچھ نہیں لینا اگر ہم خدا کے موحد بندے خدا کی نظر میں آجائیں تو غربت کی حالت میں جان دیں تب بھی ہم دنیا کے ہر متمول انسان سے بڑھ کر ہیں، اگر سیاسی لحاظ سے غلامانہ زندگی بسر کرتے ہوئے بھی جان دیں اگر ہم خدا کی نظر میں آتے ہیں تو یہی سب کچھ ہے لیکن جب آپ خدا کی نظر میں آتے ہیں تو خدا کی عظمت اور اس کے عرفان اور اس کی معرفت کو بڑھانے کے