خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 394 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 394

خطابات طاہر جلد دوم 394 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1996ء یہ تفسیر ذوقی تفسیر نہیں ہے سارا قرآن کریم تلاش کر کے دیکھ لیں حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ کے سوا مخی کسی کو نہیں فرمایا گیا۔آپ ہی ہیں جن کے متعلق فرمایا! جب یہ تمہیں بلائے تا کہ تمہیں زندہ کرے۔یہ جو مضمون ہے آنحضرت ﷺ کے زمانے میں اپنے درجہ کمال کو پہنچا ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے تعلق میں بھی اسی قسم کی زندگی کا ذکر ملتا ہے کہ جب وہ مٹی سے پرندے بنا تا تھا اور کہتا تھا کہ زندہ ہو جائیں یا اڑنے لگیں۔اللہ کے اذن کے ساتھ مگر آنحضرت ملے کے ذکر میں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے تو ان کو بلاتا کہ تو ان کو زندہ کرے یا جب میرارسول ” تمہیں بلاتا ہے تا کہ تمہیں زندہ کرے تو پھر اس آواز پر لبیک کہا کرو۔پس ان معنوں میں وہ ایک نبی جسے خدا تعالیٰ نے زندگی کی قدرت بخشی، روحانی زندہ پیدا کرنے کی آپ کو طاقت عطا فرمائی وہ حضرت اقدس محمد مصطفی الہ ہی تھے۔پس آج کا عالمی اجتماع جو تمام بنی نوع انسان کے نمائندوں کو خلا سے آج یہاں کھینچ لایا ہے اور مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب سے پرندہ صفت روحیں ، ابراہیمی طیور اڑتے ہوئے یہاں پہنچے ہیں تو یہ اس آواز کا نتیجہ ہے جو حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ایک بیابان سے بلند کی تھی۔آج تمام دنیا میں اسی آواز کی برکت ہے کہ ایک آواز پر یہ روحانی پرندے مختلف ممالک سے مختلف بر ہائے اعظم ا صلى الله سے شمال اور مشرق اور جنوب اور مغرب اور ہر ملک سے ہر رنگ کے یہاں اکٹھے ہو گئے ہیں۔پس یہ طاقت جو آپ سب کو بھینچ لائی ہے یا درکھیں یہ اللہ کی وہ طاقت ہے جومحمد مصطفی میت ہے میں جلوہ گر ہوئی ہے۔یہ اس لئے یاد کرانے کی ضرورت ہے کہ بسا اوقات انسان جب کامیابیاں حاصل کرتا ہے تو اپنے نفس کی طرف انہیں منسوب کرنے لگتا ہے اور جو ظالم ہوں جب وہ تکلیف میں مبتلا ہوتے ہیں تو تکلیفوں کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں اور اعزازات کو اپنی طرف منسوب کرتے ہیں اور یہی شرک ہے اور بدترین شرک ہے۔پس ہم جو کہ کامیابیوں کے دور میں پیدا فرمائے گئے اس میں ہمارا ادنی بھی کوئی ایسا ذاتی اعزاز نہیں جو ہم نے خود کمایا ہو۔یہ حقیقت ہے اور اس کو بیان کرتے ہوئے مجھے ایک ادنیٰ بھی شبہ یا ایک ذرہ بھی شک نہیں کہ ہم لوگوں کو خدا کا اختیار کرنا تجب انگیز ہے۔کم سے کم میں تو سوچتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں کہ ہم چیز کیا تھے اور کیا ہیں اور کیا کیا کام ہمارے سپر دفرمائے گئے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ فرماتے ہیں کہ