خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 339
خطابات طاہر جلد دوم 339 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۹۴ء ایساوجود پیدا ہوتا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا رسول گواہی دیتا ہے کہ:لــوعــاش ابراهيم لكان صديقاً نبياً (سنن ابن ماجہ کتاب الجنائز حدیث نمبر : ۱۵۰۰) صلى الله خدا کی قسم ہے کہ اگر یہ بچہ زندہ رہتا جو ماریہ کے پیٹ سے مجھے عطا ہوا ہے تو ضرور صدیق نبی بنتا۔ان بد بختوں کا یہ حال ہے ان کے متعلق یہ لکھا ہے کہ حضرت رسول کریم ﷺ کو یہ اطلاع پہنچی کہ اس ماریہ کے پاس ان کا ایک چچازاد بھائی آتا جاتا ہے اور لوگ ان پر الزام لگارہے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے قرآنی تعلیم کے بالکل بر خلاف یکطرفہ بات سن کر، نہ ماریہ کو سوال جواب کا موقع دیا نہ تحقیق فرمائی ، حضرت علی کو مامور کیا کہ جاؤ اور اس کو قتل کر دو ، اس کے سوا اور کوئی سزا نہیں ہے اس کی اور اگلا واقعہ سنیں۔یعنی یہ وہ حدیثیں ہیں جن کے بطن سے ہزارسلمان رشدی پیدا ہو سکتے نہیں اور ایسی ہی وہ حدیثیں ہیں جن سے سلمان رشدی پیدا ہوتے ہیں۔لکھا ہے کہ حضرت علی نے اس شخص کو ایسے حال میں جالیا کہ جب وہ نہار ہا تھا کنویں میں ، اس کونگی تلوار کر کے کھینچ کر جو باہر نکالا قتل کرنے کے لئے تو پتا لگا وہ تو زنخا ہے نامرد ہے، خدا نے اس کو وہ اعضاء ہی نہیں دیئے جن کے ساتھ انسان کسی عورت سے مباشرت کر سکے۔اسی وقت تلوار نیام میں ڈالی اور رسول اللہ ﷺ سے جاکے عرض کیا کہ میں مار نہیں سکا، مجبوری ہے۔انا للہ یعنی ہنسنے کی بات ہے لیکن میرا تو خون کھول اٹھا جب میں نے یہ پڑھا۔انا للہ ایسا خبیثانہ، ایسا نا پاک حملہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ذات پر کیا گیا ہے کہ ایک نہیں، میں نے صحیح کہا ہے ہزار سلمان رشدی اس روایت کے بطن سے پیدا ہو سکتے ہیں۔آنحضور ﷺ جن پر قرآن نازل ہوا ہے، جو فرماتا ہے کہ اگر کوئی فاسق اطلاع کرے تو تحقیق کرلیا کرو۔وہ قرآن جو کہتا ہے کہ پاکباز عورتوں پر جو الزام لگاتے ہیں ان کو اسی کوڑوں کی سزا دو، وہ جھوٹے ہیں جب تک وہ چار گواہ پیش نہ کریں۔ساری قرآنی تعلیم اگر کوئی بھولا تو محمد رسول اللہ بھول گئے۔اے بد بخت دما غو! تمہیں ادنیٰ بھی، ذرا بھی ہوش نہیں کہ کیا بکواس کر رہے ہو۔محمد رسول اللہ جن پر قرآن نازل ہوا ہے، جو زندہ قرآن تھے، ان کو قرآن کی تعلیم کا ایک ادنی بھی پاس نہیں تھا۔اور پھر اس مقدس خاتون پر آنحضرت ﷺ نے بغیر کسی تحقیق کے بغیر سوچے سمجھے وہ الزام قبول کرلیا جس کے متعلق قرآن کہتا ہے کہ پاکباز عورتوں کے متعلق اگر کوئی بات کہے تو وہ لعنتی اور ملعون ہے۔اور فتویٰ صادر فرما دیا اور یہ نہ سوچا کہ خدا نے اس کے بطن سے مجھے وہ بیٹا عطا کیا تھا، جس کے متعلق خدا