خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 338
خطابات طاہر جلد دوم 338 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء یہ مثالیں سن لیجئے ان کی ، وہی بات ہر جگہ یہی مصنف عبدالرزاق صاحب ہیں جو حدیثیں گھڑ گھڑ کے پیش کئے چلے جارہے ہیں کہ ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ کوکسی نے گالی دی۔آپ نے فرمایا کون ہے جو مجھے میرے دشمن سے بچائے؟ یہ فقرہ تو ٹکسالی کا ہر جگہ چلایا جارہا ہے اور ایک شخص کھڑا ہوتا ہے اور وہ کون تھا حضرت زبیر انہوں نے اس کو قتل کر دیا، یہ حوالہ دیا جارہا ہے اور اصل بات کیا ہے وہ یہ ہے کہ جنگ کے موقع پر جب کہ مبارزہ ہو رہا تھا، یعنی جب پرانے زمانے میں جنگ ہوا کرتی تھی تو ایک ایک دشمن کا ہیر و یا بہا در پہلوان نکلا کرتا تھا اور اس کے مقابل پر وہ آواز دیتا تھا تو ایک دوسرا نکلتا تھا۔تو اس وقت ایک دشمن اسلام نے جنگ کے دوران نکل کر للکارا آنحضرت ﷺ نے اعلان فرمایا اور یہی آپ کا دستور تھا کہ اس دشمن سے نپٹنے کے لئے کون ہے جو نکلے گا ؟ اس وقت حضرت زبیر نکلے اور اس کو قتل کر دیا۔اس کا ہتک رسول کے مضمون سے کیا تعلق ہے، دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔پس جو ایک حدیث سچی نکلی اس جھوٹے کی اس کا حال میں نے آپ کے سامنے کھول دیا ہے، باقی حدیثوں کی تو نہ کوئی سند نہ کوئی بنیاد، کوئی لائق ہی اس بات کے نہیں ہے کہ ان پر غور کیا جائے۔کیونکہ مصنف جھوٹا اور اول درجے کا جھوٹا، ایسا جھوٹا کہ واقدی بھی اس کے چہرے کے سامنے سچا دکھائی دے۔ہے۔اب سنیئے ایک ایسی حدیث درج کرتے ہیں نعوذ باللہ من ذالک کہ وہ حدیث اس لائق ہے یعنی مصنوعی حدیث کہ جس شخص کے منہ سے نکلے اسے اول درجے کا گستاخ رسول قرار دیا جائے، جس قلم سے نکلے اس قلم کے خلاف فتویٰ دینا جائز ہے کہ وہ نہایت ہی منحوس اور بد بخت قلم ہے، جس نے اس حدیث کو اختیار کر کے لکھنے کی جرات کی ہے۔اب آپ سنیں گے تو آپ حیران رہ جائیں گے اور یہ احمدیوں کے خون مباح کرنے والے گورنر صاحب کا حال ہے، اس حدیث کو قبول کر کے اپنی کتاب میں جگہ دینے کے نتیجے میں اگر پاکستان کے قانون میں کسی کی جان حلال ہوتی ہے تو ان گورنر صاحب کی ہے، پہلے ان کو پھانسی چڑھانا چاہئے۔اب سن لیجئے حدیث یہ بیان کرتے ہیں۔عنوان یہ لگایا ” حضرت علی کا حضرت ماریہ کے چچازاد بھائی کے قتل کے لئے بھیجا جانا۔حضرت ماریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آنحضرت ﷺ کے حرم میں تھیں جن کے بطن سے حضرت ابراہیم پیدا ہوئے یہ وہ مقدس عورت ہے جس کے پیٹ سے ایک