خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 333 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 333

خطابات طاہر جلد دوم 333 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء خلاف کوئی عذر اسلامی حکومت قبول نہیں کرے گی۔اگر کوئی شخص کسی کو قتل کر دے اور یہ کہے کہ اس نے گستاخی کی تھی تو ان لوگوں کے مسلک کے مطابق اس کا خون ریاست پر حرام ہو جائے گا اور جو مقتول ہے اس کا خون مباح ہو جائے گا اور کوئی ایسے شخص کو سزا دینے کی طاقت نہیں رکھتا جو کہے کہ اس نے گستاخی کی تھی اور اس گستاخی کے نتیجے میں ہم نے اسے قتل کر دیا۔اس ضمن میں جو حوالے پیش کئے گئے ہیں، جن کتابوں کے حوالے پیش کئے گئے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ان میں ایک الشفاء “ نامی کتاب ہے جس کا جز 2 صفحہ 951 پر قاضی عیاض ایک سپین کے مفتی تھے، انہوں نے اس معاملے میں فتوے دیئے ہیں اور چند حدیثیں بیان کی ہیں جن کی کوئی اصل نہیں، کوئی حقیقت نہیں ہے۔وہ حدیثیں ( اور بعض حدیثیں بھی نہیں ہیں ) بعض ایسے واقعات ہیں جن کو سن کر انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اس زمانے کے قاضی کیسے فتویٰ دیا کرتے تھے، وہ دیتے چلے جاتے ہیں اور صاف حدیثوں کی طرز بیان کرتی ہے۔ایک ہی محاورہ بار بار دہرایا جارہا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ کسی نے بیٹھ کر یہ ساری باتیں گھڑ رکھی ہیں۔مثلاً ایک شخص نے نبی کریم کو گالی دی ، حضور نے فرمایا مَنْ يَكْفِینِی عَدُوّی کون ہے جو اس دشمن کے مقابل پر میرے لئے کافی ہو اور فلاں اٹھا کبھی زبیر اٹھے، کبھی حضرت خالد بن ولیڈا اٹھے، کبھی حضرت علیؓ اٹھے۔انہوں نے کہا! یا رسول اللہ ہم کافی ہوتے ہیں اور تلوار نکالی اور اس کی گردن کاٹ دی۔ایک خاص ٹکسالی کی حدیثیں بیان کی گئیں ہیں۔جن کی استناد کا یہ حال ہے، جن کے مستند ہونے کا یہ حال ہے کہ خود اسی کتاب کے حاشیے میں علی محمد الحاری کا نوٹ ہے۔مثلاً یہ ایک حدیث ہے اسی مضمون کی ، ایک شخص حضور اکرم ﷺ کو گالیاں دیتا تھا آپ نے فرمایامَنُ يَكْفِيُنِي عَدُوّى وہی فقرہ دہرایا، میرے دشمن کو کون کفایت کرے گا ؟ حضرت خالد نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اور آپ نے اجازت دی اور خالد بن ولیڈ نے اس کو قتل کر دیا۔ایسی من گھڑت باتیں ہیں جن کا تاریخ اسلام کے ساتھ کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ، مزاج نبوی سے کوئی دور کا تعلق نہیں اور اس ایک حدیث کے متعلق تو اس کتاب کا حاشیہ نگار لکھتا ہے، محقق علی محمد صاحب لکھتے ہیں کہ یہ حدیث نسیم الریاض میں ہے مگر اس میں کسی راوی کا کوئی ذکر نہیں۔یہ فتووں کی بناء ہے؟ ایک حدیث بیان کی جارہی ہے ایک کتاب میں جہاں کسی راوی کا ذکر ہی کوئی نہیں اور قرآن کی تعلیم اور محمد رسول اللہ ﷺ کے کردار کے مخالف ایک