خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 299 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 299

خطابات طاہر جلد دوم 299 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۳ء احمدی خاتون نے دیکھی اور جو بعد میں الفضل میں شائع ہوئی۔اس رؤیا کے الفاظ سنیں تو انسان ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ کس طرح اس زمانے میں جب ان باتوں کا تصور بھی نہیں تھا اور یہ بھی تصور نہیں ہوسکتا تھا کہ کب یہ باتیں پوری ہوں گی ؟ خدا نے کس صفائی کے ساتھ ایک احمدی خاتون کو یہ نظارہ دکھایا۔وہ لکھتی ہیں۔66 میں حلفیہ عرض کرتی ہوں کہ ۱۹۷۰ء میں جبکہ میں بانی منزل دار البرکات ربوہ میں مقیم تھی۔میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا زمین سمٹ کر چھوٹی ہو کر میرے سامنے آگئی ہے اور گول دائرے کی شکل میں ہے۔اس کے گرد رنگ برنگی اور سفید لیکن تیز روشنیاں گھوم رہی ہیں جو سب ہی بہت خوبصورت ہیں اور دل کو بہت پیاری معلوم ہوتی ہیں۔پھر دیکھا اس زمین کے اندر سے ایک نام ابھرا اور وہ تھا مرزا طاہر احمد ۱۹۷۰ء کا سال وہ ہے جبکہ حضرت خلیفتہ اسیح الثالث منصب خلافت پر قائم فرمائے گئے اور ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا اس وقت ، چند سال ہی گزرے تھے چار، پانچ سال کی بات تھی اور کوئی وہم و گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ آئندہ زمانے میں میرا اس خلافت سے تعلق ہوگا اور اس زمانے میں ہوگا جبکہ برقی لہریں مختلف رنگ کی اس طرح دنیا کے گردگھو میں گی کہ دنیا سمٹ کر چھوٹی سی رہتی ہوئی دکھائی دے گی۔یہ وہ زمانہ تھا جبکہ میں ایک ادنی معمولی خادم کے طور پر گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر تک سائیکل پر جایا کرتا تھا اور چھوٹے چھوٹے سفر بھی میرے لئے لمبے سفر ہوتے تھے لیکن خدا نے دیکھیں کیسا آسان فر ما دیا یہ سفر کہ آج میں تمام دنیا سے مخاطب ہورہا ہوں اور وہی برقی لہر میں جو اس خاتون کو دکھائی گئی تھیں وہ میری آواز کو بھی اور تصویر کو بھی اور آپ کی تصویروں کو بھی تمام دنیا میں خوبصورت رنگارنگ روشنیوں میں اس طرح پھیلا رہی ہیں کہ گویا د نیا سمٹ کر ایک چھوٹے سے گولے کی شکل اختیار کر گئی ہے۔اب میں جہاں تک تمام دنیا میں اسلام کی اشاعت کا تعلق ہے، مجھے کامل یقین ہے کہ اس نظام کے ذریعے اب بہت تیزی کے ساتھ ہمارے سفر طے ہوں گے اور دنیا بہت تیزی کے ساتھ حلقہ بگوش اسلام ہو گی انشاء اللہ تعالیٰ۔خدا مجھے اور آپ کو زندہ رکھے کہ ہم اس نظام کے درجہ کمال کو پہنچنے