خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 298 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 298

خطابات طاہر جلد دوم 298 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۳ء جائے۔یہ انتظام جس کے ذریعے سے راست بازوں کا گروہ کثیر ایک ہی مسلک میں منسلک ہو کر وحدت مجموعی کے پیرایہ میں خلق اللہ پر جلوہ نما ہوگا اور اپنی سچائی کے مختلف المخرج شعاعوں کو ایک ہی خط ممتد میں ظاہر کرے گا۔خداوند عز وجل کو بہت پسند آیا ہے۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه: ۵۵۹) یعنی تمام دنیا کے مومنین گویا ایک جگہ اکٹھے ہو جائیں گے ، تمام نظاروں میں شریک ہوں گے اور یہ اس طرح ہوگا کہ مختلف روشنیاں ایک ہی روشنی کے اندر سے جو مختلف رنگ رکھتی ہیں ایک ہی روشنی کی شعاع کے ذریعے دنیا تک پہنچیں گی اور وہ دنیا اس سے فیض پا کر وہ نظارے دیکھے گی۔پس ٹیلی ویژن میں ہر رنگ الگ الگ سفر نہیں کرتا بلکہ برقی لہریں تمام رنگوں کو سمیٹے ہوئے اسی طرح جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خبر دی گئی تھی اکٹھی سفر کرتی ہیں اور جہاں جہاں پہنچتی ہیں، وہاں وہاں ٹیلی ویژن کے آلے اُن کو پھر الگ الگ کر کے مختلف رنگوں میں مختلف تصویروں کی صورت میں دیکھتے ہیں۔اب سنیئیے وقت کا تعین دیکھیں کس طرح اور واضح ہوتا چلا جاتا ہے۔پرانے بزرگوں نے پیشگوئیاں کیں یہ واقعات ہوں گے۔ان کی تفسیر ایسی بیان فرمائی کہ اس زمانہ میں جب ہم نے ان کو ہوتے دیکھا تو ایک ذرہ بھی شک نہیں رہا کہ یہی باتیں تھیں جن کی خوشخبریاں دی گئی تھیں۔پھر جس امام کا ذکر چلا ہے جس کے پیغام رسانی کے نظام کو آسان تر کرنے کے لئے اور وسیع تر کرنے کے لئے یہ سارا کاروبار جاری کیا گیا۔اس کو اللہ تعالیٰ نے خبر دی اور معلوم ہوتا ہے کہ ٹیلی ویژن کا چونکہ تصور نہیں تھا اس لئے بجلی کی لہروں کے انداز بیان کئے گئے کہ اس طرح وہ باتیں پھیلیں گی اور پوری طرح یوں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ علم نہیں ہوسکا کہ یہ کیا بنے گی ، کیا بات ہوگی، کس طرح پوری ہوگی۔لیکن اس کا بنیادی مرکزی نکتہ سمجھا دیا گیا اور یہ بتا دیا گیا کہ اس وقت تک جب تک خدا کی تقدیران واقعات کو ظاہر نہیں کرے گی اس وقت تک یہ ڈاک کا نظام ہی جاری رہے گا۔اب سنیئے ! کس کے زمانے میں یہ ہونا تھا یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کس غلام کے زمانے میں یہ واقعات رونما ہونے تھے۔اس سے متعلق ۱۹۷۰ء کی ایک رؤیا ہے جو ایک