خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 297
خطابات طاہر جلد دوم 297 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۳ء گی۔یعنی وہ دُور کی آوازیں سن سکیں گے اور دُور کے واقعات کو دیکھ سکیں گے۔اگر کوئی فردا یک شہر میں ہوگا اور امام دوسرے ملک میں تو لوگ اس امام کو دیکھ لیں گے اور اس کے کلام کو سن لیں گے اور اس سے باتیں کر سکیں گے۔یہ پہلا حصہ تو خدا کے فضل کے ساتھ آپ کی آنکھوں کے سامنے پورا ہو چکا اور بڑی صفائی کے ساتھ پورا ہورہا ہے۔اس دوسرے حصے سے متعلق مجھے یقین ہے کہ انشاء اللہ ہماری نسلیں اس کو بھی پورا ہوتے دیکھیں گی اور عالمی رابطوں کے ذرائع پہلے ہی اتنی ترقی کر چکے ہیں اور عنقریب اور ترقی کریں گے اور جماعت احمدیہ کے تصرف میں آئیں گے۔جس کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ ان الہی جلسوں کی کارروائیاں دور بیٹھے کل عالم میں لوگ سن اور دیکھ سکیں گے بلکہ ہم ان کی تصویریں یہاں یکھ سکیں گے اور وہ جو سوال کریں گے ان کی آوازیں یہاں پہنچیں گی۔پس یہ خدا کے کام ہیں، اسی کا کارخانہ ہے اسی نے جاری فرمایا ہے۔وہی اس کارخانے کی حفاظت فرمائے گا اور جو روکیں بیچ میں آئیں گی ان کو اٹھا دے گا اور کوئی دنیا کی طاقت ان رابطوں کی راہ میں حائل نہیں ہو سکے گی کیونکہ اللہ کی طرف سے یہ مقدر ہو چکا ہے اور جماعت احمدیہ کی خاطر یہ سارے کارخانے جاری فرمائے گئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی خدا تعالیٰ نے حیرت انگیز صفائی سے ان امور کی خبریں دی تھیں جبکہ ٹیلی ویژن کا کوئی تصور بھی موجود نہیں تھا لیکن جو عبارت ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی وہ حیرت انگیز صفائی سے اسی مضمون پر صادق آ رہی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ ذکر فرما رہے ہیں کہ اب تو دور دور سے بیعتیں آرہی ہیں اور ان کے متعلق حضور ہدایت فرماتے ہیں کہ ان کے ریکارڈ رکھے جائیں اور پھر وقتا فوقتا وہ ریکارڈ یہاں بھجوائے جاتے رہیں۔پھر فرماتے ہیں کہ: یہ جو سلسلہ ہے یہ ہمیشہ اس طرح نہیں رہے گا بلکہ خدا کے ہاں ایک بات مقدر ہے جب اس مقدر کو پہنچے گی وہ بات تو پھر ایک اور نظام جاری ہوگا۔“ اور وہ کیا ہو گا؟ اس کے متعلق فرماتے ہیں: ایسا ہی ہوتا رہے جب تک ارادہ الہی اپنے انداز ہ مقدر تک پہنچ