خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 293 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 293

خطابات طاہر جلد دوم 293 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۳ء ہوں۔پس مجھ سے ہی عزتیں مانگو، مجھ سے ہی رونقیں طلب کرو میرے فیض لامتناہی ہیں اور جب انسان اس ذکر میں داخل ہوتا ہے تو پھر حمد کے سمندر میں غوطہ زن ہو جاتا ہے۔اللہ کے فضل کے ساتھ سب اندازے والوں کے اندازے غلط نکلے، بار بار میں ان سے کہتا رہا کہ تمہیں نہیں اندازہ تمہارے اندازے غلط ہوں گے، اللہ کے فضل ہمیشہ ہماری توقع سے بڑھ کر نازل ہوا کرتے ہیں اس دفعہ بھی دیکھنا یہی ہو گا۔پس آج مجھے امیر صاحب کی طرف سے یہ بتایا گیا بلکہ یہ اقرار کیا گیا یعنی اقرار لاعلمی کہ ہم سے غلطی ہوگئی، آج پہلے دن اس سے زیادہ حاضری ہے جتنی گزشتہ سال آخری دن تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسہ سالانہ کی بنیاد ڈالی اور اس کے متعلق بارہا متعدد مواقع پر صیحتیں فرمائیں ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بار اس طرف توجہ دلائی کہ یہ جلسہ خالصہ اللہ ہے اور حمد اور درود کے لئے منعقد کیا جا رہا ہے، اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اس میں صرف کرو اور تقویٰ حاصل کرنے کی کوشش کرو کیونکہ ہر نیکی کی جان تقویٰ ہے۔اس جلسے کی غرض بیان فرماتے ہوئے ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ یہ سب کچھ جو میں کہ رہا ہوں ان سب باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ تقویٰ کو پکڑ لو، تقوی کو پکڑ لو، تقویٰ کو پکڑ لو کیونکہ اگر تمہیں تقویٰ نصیب ہو جائے تو سب کچھ نصیب ہو جائے۔پس تمام آنے والے مہمانوں سے میں مخاطب ہوں کہ اپنے تقویٰ کی طرف توجہ دیں اور تقویٰ کا معیار بلند کرنے کی کوشش کریں۔جب میں کہتا ہوں تقویٰ کا معیار بلند کرنے کی کوشش کریں تو میری مراد یہ ہے کہ خدا کے حضور اور جھکنے اور گرنے کی کوشش کریں کیونکہ انکسار ہی میں تقویٰ ہے، سجدوں ہی میں ربّ اعلیٰ سے وصال ہوتا ہے۔جتنا آپ خدا کے حضور گریں اور عاجزی اختیار کریں اتنا ہی اللہ اپنی رحمت سے آپ کو وہ بلندیاں عطا کرتا ہے جن بلندیوں کی طرف حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا قدم ہمیشہ جاری وساری رہا، یہاں تک کہ آپ ان بلندیوں تک پہنچے جن تک انسان کا تصور بھی نہیں پہنچ سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام آپ نے سنا ہے، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے زیادہ کسی کو حضور اکرم ﷺ کا عرفان نصیب نہیں ہوا لیکن دیکھیں کس عاجزی اور انکساری سے یہ تسلیم کرتے ہیں کہ میں سب تعریفیں کر رہا ہوں مگر پھر بھی میں وہاں تک نہیں پہنچ سکا نہ