خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 270
خطابات طاہر جلد دوم 270 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۲ء اتنی بدنصیبی ہے اُس خدا کے مقابل پر جس کی شان کا اظہار ان آیات کریمہ میں فرمایا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کیسے بد نصیب لوگ ہیں کہ اس کے سوا معبود بنائے بیٹھے ہیں لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُون وہ کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے اور وہ تمام کے تمام پیدا کئے گئے ہیں۔وَلَا يَمْلِكُونَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعَاوہ اپنے لئے نہ کوئی فائدہ رکھتے ہیں نہ نقصان ان کے ہاتھوں میں ہے۔وَلَا يَمْلِكُونَ مَوْتًا موت کے بھی تو مالک نہیں وَلَا حَیٰوةً اور زندگی پر بھی اختیار نہیں رکھتے۔وَلَا نُشُورًا اور پھر اٹھائے جانے پر بھی ان کو کوئی مقدرت حاصل نہیں۔یہ عظیم الشان کلام توحید الہی کا ہے جس سے روح لرزہ براندام ہو جاتی ہے اور اس میں بڑی قوت کے ساتھ تو حید باری تعالیٰ کو دنیا کے تمام مذاہب باطلہ کے خلاف ثابت کیا گیا ہے اور مذاہب باطلہ سے میری مراد وہ مذاہب ہیں جو آغاز میں توحید ہی کے سرچشمے سے پھوٹے تھے مگر بدنصیبی سے رفتہ رفتہ بہتے بہتے دور ہوتے چلے گئے اور بالآخر یہاں تک پہنچے کہ وہ پہچانے نہیں جاتے۔وہ پاک سر چشمہ جو تو حید کا سر چشمہ تھا، جو ہر مذہب کا سرچشمہ ہے وہ گدلا ہونا شروع ہوا، اس کی نئی شاخیں بنی شروع ہوئیں یہاں تک کہ توحید باری تعالیٰ پھیلتے اور پھر پھیلتے ہوئے شرک میں تبدیل ہو گئی۔وہ بت خانے جو مختلف شہروں اور آبادیوں میں بنائے گئے، وہ بت خانے ایک ایک دل میں بن گئے اور آج انسانیت کی سب سے بڑی بدنصیبی ہے کہ انسان بحیثیت انسان شرک میں مبتلا ہو چکا ہے۔دنیا کے مسائل کے حل سے متعلق آپ بڑی بڑی طاقتوں کے سربراہوں کی باتیں سنتے ہیں اور بڑے فخر کے ساتھ عظیم دنیاوی طاقتوں کی طرف سے اعلان کئے جاتے ہیں اس دنیا کے نئے نقشے کی تعمیر ہم کریں گے، میں خدا کی قسم کھا کے کہتا ہوں یہ جھوٹ ہے۔دنیا اور نئی دنیا کی تعمیر صرف اور صرف محمد مصطفی ﷺ کی ذات کے ساتھ وابستہ ہو چکی ہے۔اس ذات کے ساتھ وابستہ ہو چکی ہے جس نے اپنے وجود کومٹا کر تمام تن تو حید باری تعالیٰ میں مدغم کر دیا۔پس تو حید کے سوا اس مرتی ہوئی دنیا کے لئے کوئی امرت نہیں، کوئی پانی نہیں جو اسے نئی زندگی بخش سکے، کوئی پیغام نہیں جو انسانیت کو ایک ہاتھ پر پھر اکٹھا کر سکے اور یہ عظیم الشان کام ہم عاجز بندوں کے سپر دفرمایا گیا ہے۔ہمیں بہر حال یہ کرنا ہوگا کیونکہ اگر ہم نے یہ کام نہ کیا تو پھر دنیا میں اور کوئی یہ کام کرنے والا نہیں۔ایک وہ وقت تھا جب جنگ بدر کے وقت حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ نے