خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 268
خطابات طاہر جلد دوم 268 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۲ء تک بھی خدا کے فضل سے براہ راست میرے پیغام پہنچنے شروع ہوئے اور پھر اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام فرمایا کہ ٹیلی ویژن کے ذریعے سارے یورپ تک میرے خطبات براہ راست نہ صرف سنے جانے لگے بلکہ دیکھے بھی جانے لگے۔کانوں سے سننے کا بھی ایک اثر ہوتا ہے اور آنکھوں سے دیکھنے کا بھی، تبھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔دیدار گر نہیں ہے تو گفتار ہی سہی (در مشین: 11) اب تو اللہ تعالیٰ نے گفتار کے بھی انتظام فرما دیئے اور دیدار کے بھی انتظام فرما دیئے اور آج یہ انقلابی دن آیا ہے کہ اس وقت جو میں آپ سے یہاں گفتگو کر رہا ہوں اسے نہ صرف پاکستان اور ہندوستان میں سنا جارہا ہے بلکہ دیکھا بھی جا رہا ہے اور صرف پاکستان اور ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ انڈونیشیا میں بھی اور سنگا پور میں بھی اور جاپان میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ آواز براہ راست پہنچ رہی ہے اور یہ تصویر بھی براہ راست پہنچ رہی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس الہام کو ہم نے بڑی شان کے ساتھ پورا ہوتے دیکھا کہ میں تیری تبلیغ کوزمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔“ ( تذکرہ: ۲۶۰) اس الہام کو پڑھنے کے مختلف انداز ہیں آج تک بالعموم اسے اس رنگ میں پڑھا گیا ہے کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا لیکن آج میں اللہ تعالیٰ کے شکر سے مغلوب ہوکر، اس کے احسانات سے مغلوب ہو کر اسے یوں پڑھتا ہوں کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔خدا کے سوا اور کوئی نہیں جو یہ کام کر سکتا تھا اور وہی ایک واحد ذات ہے جس نے آج یہ انتظام فرمایا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ادنی چاکر کو یہ توفیق دی کہ مسیح موعود کی نمائندگی میں جو کلام کر رہا ہے، وہ کلام بھی تمام دنیا کے کناروں تک پہنچ رہا ہے اور اس کی تصویر بھی اور اس جلسے کے مناظر بھی براہ راست ساری دنیا تک نشر ہورہے ہیں۔آج خدا کے فضل سے اس الہام کے پورا ہونے کے ایک نئی شان سے دن آئے ہیں کہ ”میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔“ اللہ تعالیٰ کے ان احسانات پر جو شکر ہم پر واجب ہے اسے محض نعروں سے تو ادا نہیں کیا جاسکتا، عمل سے ادا کرنا ہوگا کیونکہ وہی کلام خدا کے ہاں احسن اور مقبول ہے جس کی تائید انسان کے اعمال کریں۔پس جس خدا نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر نظر کرم فرماتے ہوئے آپ