خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 260 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 260

خطابات طاہر جلد دوم 260 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء پورا ہوا ہے اور آپ کبھی خوش نصیب ہیں جو اس وعدے کو پورا کرنے میں مددگار اور شریک اور محد اور انصار بن کر یہاں پہنچے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی بہترین جزا عطا فرمائے اور خدا کا ہم کیسے شکر یہ ادا کریں جس نے یہ سعادت ہمیں بغیر کسی ظاہری حق کے عطا فرمائی۔کوئی مخفی حق اس کے علم میں ہے تو وہی جانتا ہے۔میں تو جب اپنے حال پر نگاہ کرتا ہوں تو ہر گز اپنے آپ کو ان فضلوں کا مستحق نہیں پاتا اور خدا کی قسم اس میں کوئی جھوٹے عجز کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔میں جانتا ہوں میں کون ہوں مجھے اپنی حیثیت کا علم ہے۔ان فضلوں کو دیکھتا ہوں تو کہتا ہوں اے خدا! میں کیا کروں تیرے لئے کس طرح ان کے شکر کا اظہار کروں۔اظہار بھی میرے بس میں نہیں۔شکر ادا کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔دیکھیں اللہ تعالیٰ نے یہی وعدہ فرمایا تھا۔اب تو امن اور برکت کے ساتھ اپنے گاؤں میں جائے گا اور میں تجھے پھر بھی یہاں لاؤں گا“۔جس کا مطلب ہے کہ پہلی واپسی عارضی ہوئی تھی اور امن کے ماحول میں ہوئی تھی۔بعض احمدی باہر کے ملکوں میں پتہ نہیں کیسے ان خوابوں میں بسے رہے گویا جس طرح فوج کشی ہوتی ہے اس طرح بڑے زور سے احمدیت کی فوج نعوذ باللہ من ذالک قادیان پر حملہ آور ہو گی اور فتح حاصل کرے گی اور اس طرح وہ پرانی تاریخ انہی لفظوں میں دہرائی جائے گی جیسے بعض دفعہ پہلے رونما ہوئی ہے۔یہ سب فرضی باتیں ہیں۔اللہ بہتر جانتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ کیا مقدر تھا اور وہ یہی مقدر تھا۔فرمایا تو امن اور برکت کے ساتھ اپنے گاؤں میں جائے گا اور میں تجھے پھر بھی یہاں لاؤں گا۔اب اس مضمون کو مثنى وَتُلْكَ وَرُبع کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو پتا چلتا ہے کہ ایک بار نہیں دو دو، تین تین، چار چار بار آنا ہوگا اور بالآخر اللہ تعالیٰ کی وہ تقدیر ظاہر ہوگی کہ جب خلافت قادیان میں دائمی مرکز قادیان کو واپس پہنچے گی۔۲۶ جولائی ۱۹۰۴ء کو یہ رویا ہوا اور انبیاء کے رویا اور کشوف بھی وحی کا درجہ رکھتے ہیں اس لئے اس رؤیا کی بڑی اہمیت ہے۔آپ نے دیکھا کہ ہم قادیان گئے ہیں۔اب دیکھیں عجیب بات ہے قادیان رہتے ہیں اور دیکھا کہ قادیان گئے ہیں۔میں نے سب الہامات کا مطالعہ کیا ہے۔ایک بھی جگہ یہ نہیں لکھا قادیان آئے ہیں بلکہ ہر جگہ گئے ہیں کا مضمون ہے جس کا مطلب ہے بہت لمبے عرصے سے باہر رہ رہے ہیں۔واپس آنے کی تمنا ہے پوری نہیں ہو رہی، دعائیں کرتے ہیں،