خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 245
خطابات طاہر جلد دوم 245 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء والسلام کی بیعت میں داخل ہوئے اور اُنہوں نے اپنا یہ بیان ریکارڈ کروایا۔اگر آج میں اپنے نانا محمد حسین بٹالوی کی زندگی کے تمام حالات بیان کروں تو یہ ایک عبرت ناک واقعہ ہوگا اور خوشی اس بات کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بچے کو سچا کر دیا اور جھوٹے کو جھوٹا کر دیا۔دیکھیں! ایک وقت ایسا تھا کہ ابو جہل مکہ میں دندناتا پھرتا تھا اور حضرت اقدس محمد مصطفی ملے کو ظالمانہ ناموں سے یاد کرتا اور آپ کی تحقیر کرتا تھا۔ایک وقت ایسا آیا جب اُس کا بیٹا عکرمہ خود اپنے باپ کی حرکتوں سے بیزار اور شرمندہ ہو گیا اور ہمیشہ کے لئے تو بہ کر کے وہ حضرت محمد مصطفی مے کے غلاموں میں داخل ہوا اور جتنی بار ابو جہل نے آنحضرت ماہ کے خلاف دشنام طرازی سے کام لیا تھا اُس سے بہت زیادہ وہ آنحضرت ﷺ پر درود بھیجتے ہوئے اپنی زندگی کے بقیہ دن کاٹ کر اپنے خدا کے حضور حاضر ہوا۔آج آنحضرت ﷺ کے غلام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے بھی خدا تعالیٰ نے ویسا ہی ایک نشان پیدا فرما دیا۔محمد حسین بٹالوی کے نواسے نے اپنے نانا کے جھوٹ پر مہر تصدیق ثبت کی اور اُس کے آخری ایام مسیح موعود پر سلام اور درود بھیجتے ہوئے صرف ہوئے۔جہاں تک جلسہ سالانہ کی حاضری کا تعلق ہے اب تو یہ معاملہ بہت بڑھ چکا ہے دس دس ، پندرہ پندرہ، ہیں ہیں، چالیس چالیس، پچاس پچاس ہزار کے سالانہ جلسے دنیا میں مختلف جگہ منعقد ہو رہے ہیں لیکن بات اُس سے بھی آگے بڑھ چکی ہے۔اب تو خدا کے فضل سے ایک ایک سال میں بعض ملکوں میں پچاس ہزار سے زائد بیعتیں ہو رہی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر سال بعض ملکوں میں پورے جلسہ سالانہ کے سامان میسر آ رہے ہیں اور یہ سلسلہ کسی اتفاقی حادثے کا نتیجہ نہیں ایک رُجحان ہے جو قائم ہو رہا ہے اور مستحکم ہوتا چلا جارہا ہے اور جب بعض ممالک کے متعلق یہ اطلاعیں دوسرے ممالک کو پہنچتی ہیں تو وہ بھی جوش رشک سے اُن سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔غرضیکہ تمام دنیا میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسابقت کی یہ دوڑ جاری ہو چکی ہے۔اے ہندوستان والو! اے بھارت کے احمد یو! کیا اس عزت اور سعادت کو جو خدا نے تمہیں تھمائی تھی دوسرے ملکوں کو تم اپنے سے چھین کر لے جانے کی اجازت دو گے۔کیا تم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہو گے اور افریقہ اور امریکہ اور یورپ اور دنیا کے یہ دوسرے ممالک تبلیغ کے ذریعے