خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 224
خطابات طاہر جلد دوم 224 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۱ء نتیجے میں کیا ہو گا تم اکٹھے کئے جاؤ گے ظاہری طور پر نہیں بلکہ تمہارے دل اکٹھے کر دیئے جائیں گے اور ظاہری اجتماع کوئی بھی حقیقت نہیں رکھتا۔دیکھو بنی نوع انسان کا سب سے بڑا اجتماعی ادارہ United Nations لیکن دیکھو کیسے Ununited ہے Disunited ہیں۔ہر قوم حقیقت میں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنائے ہوئے ہے اور ہر قوم کی خواہش ہے کہ آپس میں ایک دوسرے سے ایسے تعلق جوڑیں کہ اس کے نتیجے میں اجتماعیت پیدا نہ ہو بلکہ بعض گروہوں کے خلاف مضبوط گروہ نمودار ہوں اور ان گروہوں کے اندر پھر انفرادی رسہ کشی کا مضمون ہمیشہ جاری رہتا ہے۔بظاہر امریکہ کے تابع یورپ بھی ہے اور بعض بڑی بڑی دوسری مملکتیں بھی آچکی ہیں مگر یورپ کے اندر پھر انفرادیت ہے اور ہر روز آپ ایسی خبریں پڑھتے ہیں جس کے نتیجے میں بڑی بڑی یورپین حکومتیں ہر وقت اس کوشش میں مصروف رہتی ہیں کہ کسی طرح زیادہ سے زیادہ حق یورپ کی اجتماعیت سے اپنی قوم کے لئے حاصل کریں۔پس یہ جمیعا کے مضمون کے مخالف ہے۔جمعیت کا مضمون بالکل اور خبر دیتا ہے۔آپ کو ایسے اجتماع کی ضرورت ہے وہ اجتماع جو دلوں کو اکٹھا کرنے والا ہو۔پس دیکھیں روحانی تاریخ میں کس طرح اس دنیا کی تعریف سے الگ اور ممتاز کر دیا ہے فرمایا وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ( آل عمران : ۱۰۴) الگ الگ نہ ہونا انفرادیت اختیار نہ کرنا ورنہ تم مارے جاؤ گے فرمایا وَ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ وه صلى الله وقت یاد کرو جب محمد مصطفی ﷺ بھی مبعوث نہیں ہوئے تھے۔تم کس طرح گروہ در گروہ بٹے ہوئے تھے۔سارا عرب منتشر اور ایسے مخالف گروہوں میں بٹا ہوا تھا کہ ان میں سے ہر ایک ایک دوسرے کا جان لیوا تھا۔ہر ایک ایک دوسرے کے خون کا دشمن تھا۔کیسا عجیب معجزہ ہوا ہے کہ محمد مصطفی میت ہے کی رسی پر ہاتھ ڈال کر نہ صرف وہ عرب متحد ہوا بلکہ اس عرب کو تمام دنیا کو متحد کرنے کی ذمہ داریاں سونپی گئیں وہ دین واحد اس عرب قوم کو عطا کیا گیا۔ان کی قومیت کے طور پر نہیں بلکہ محمد مصطفی منانے کے قرب کے طور پر، پہلے اسلام کے سفیروں کے طور پر۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو اس طرح کھولا کہ یاد کرو تمہاری کیا حالت تھی تم کس طرح اکٹھے ہوئے ہو، کیا صرف قرآن پر ا کٹھے ہوئے ہو؟ ہرگز نہیں! کیونکہ وہ قرآن تو محمد رسول اللہ کے بعد بھی جاری رہا اور آنحضرت ﷺ کے بعد اس جمعیت میں خلل پیدا ہونا شروع ہو گیا۔صل وہ