خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 213
خطابات طاہر جلد دوم 213 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۱ء اس کے غیب سے بھاگ نہیں سکتا، اس سے کوئی چیز غیب میں نہیں ہے۔اگر یہ مضمون انسان پر کھل جائے تو اس کی ساری زندگی شرمندگی میں بسر ہو۔آدم کی کہانی روزانہ ہر انسان کی زندگی میں دہرائی جائے اور وہ ہر روز خفت محسوس کرے اور ہر روز وہ چاہے کہ کسی طرح میں خدا تعالیٰ کی نظر سے چھپ جاؤں کیونکہ مجھ سے ایسے افعال سرزد ہورہے ہیں اور ہو جاتے ہیں جن کے نتیجے میں مجھے اپنے خدا سے شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔یہ تقویٰ کا پہلا قدم ہے جو بیان فرمایا گیا کیونکہ آدم کی کہانی سے تقویٰ کے مضمون کا آغاز ہوتا ہے۔آدم کی کہانی مذہب کے آغاز کی کہانی ہے، آدم کی کہانی خدا تعالیٰ کے ساتھ اس کی مخلوق کے باشعور تعلق کی پہلی کہانی ہے۔پس حَقَّ تُقیہ کے مضمون کو سمجھنے کے لئے ہمیں آغاز سے سفر کرنا ہوگا اور اس پہلو سے آدم کی کہانی سے سبق لینا ہوگا اور اگر چہ ہزار ہا سال گزر گئے اگر چہ آدم کو گزرے ہوئے اتنی مدت ہوگئی کہ اس عرصے میں مذہب ترقی کرتا ہوا اپنے درجہ کمال کو پہنچ گیا مگر ہم میں سے اکثر ایسے ہیں جنہیں پھر بھی چھ ہزار سال پہلے سے اپنے سفر کو شروع کرنا ہوگا اور آدم سے سیکھنا ہوگا کہ حیا کیا ہوتی ہے؟ نہ چھپ سکنے کے باوجود چھپنے کا احساس تقویٰ کا پہلا قدم ہے۔پس وہ لوگ جو خدا کے وجود کو حاضر ناظر جانتے ہیں ان کی زندگیاں خواہ وہ کتنے ہی بزرگ کیوں نہ ہوں ہمیشہ ندامت میں صرف ہوتی ہیں، ہمیشہ حیا سے کٹتی ہیں اور وہ خود اپنی ذات میں حیا سے کٹتے چلے جاتے ہیں۔دنیا انہیں نیک دیکھتی ہے، دنیا ان کے تن بدن کو ڈھانپا ہوا دیکھتی ہے لیکن خدا کے سامنے وہ ننگے ہیں اور کسی لباس سے ان کا تن چھپ نہیں سکتا لیکن ایک لباس ہے جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ان کی کمزوریوں کو ڈھانپتا چلا جاتا ہے اور وہ لباس تقوی ہے۔لباس تقویٰ قرآن کریم کا محاورہ ہے۔فرمایا وَ لِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ (الاعراف: ۲۷) تقویٰ کا لباس اختیار کرو۔تقویٰ کے لباس میں یہ خوبی ہے کہ اگر انسان سے غلطیاں سرزد بھی ہوں اور وہ متقی ہو تو خدا کا بھی ایک انداز ، صرف نظر کا انداز ہے۔وہ بھی اپنے بندوں کی پردہ پوشی فرماتا ہے اور خود اغماض فرماتا ہے لیکن شرط تقویٰ ہے، شرط حیا ہے۔بعض دفعہ چھوٹے بچے بھی حیا سے اپنے آپ کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس حالت میں جب ان کے ماں باپ ان کو دیکھتے ہیں حالانکہ وہ ہمیشہ سے ان کو دیکھتے چلے آرہے