خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 211 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 211

خطابات طاہر جلد دوم 211 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۱ء میں ، اس کے دل کی دھڑکنوں میں، اس کے خون کی روش میں جاری کرے اور ایک ایسا وقت آئے کہ کل عالم حمد باری تعالیٰ سے بھر جائے اور ہر دل خدا کی حمد کے ساتھ دھڑ کنے لگے۔خون کا ذرہ ذرہ جو انسان کی رگوں میں جاری ہو وہ حمد باری تعالیٰ کے ساتھ جاری ہو اور باشعور طور پر ایسا ہو۔یہ وہ اعلیٰ مقصد ہے جس کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا اور اس اعلیٰ مقصد کو پورا کرنے کے لئے آج جماعت احمدیہ کو مامورفرمایا گیا ہے۔پس تمام عالم کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنا اور حمد باری تعالیٰ کے سلیقے سکھانے ،حمد باری تعالیٰ کے آداب سکھلانے ، حمد باری تعالیٰ کا مضمون ایسے سمجھانا جیسے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو سمجھایا گیا تھا اور پھر اس کو اپنی ذات میں جاری کرنا۔یہ وہ اعلیٰ مقصد ہے جس کے لئے خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو کھڑا کیا ہے اور یہ بھی ممکن ہوگا کہ حمد کے مضمون کو ہم اپنی ذاتوں میں جاری کریں اور اس کے بعد ہم اس لائق ٹھہرائے جائیں گے کہ تمام بنی نوع انسان کو خدا تعالیٰ کی اعلیٰ اور ارفع حمد کی طرف بلا ئیں اور حمد کے سلیقے سکھائیں۔قرآن کریم کی جن آیات کی آپ کے سامنے تلاوت کی گئی ہے وہ آیات خصوصیت سے میں نے اس موقع کے لئے انتخاب کی تھیں اور ان کا اس مضمون سے ایک گہرا تعلق ہے۔سب سے پہلے یہ نصیحت فرمائی گئی ہے یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُونَ ( آل عمران:۱۰۳) کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ تعالیٰ کا ایسا تقویٰ اختیار کرو جیسا کہ تقویٰ اختیار کرنے کا حق ہے اور اس حق کی تشریح فرما دی گئی وَلَا تَمُوتُنَّ إلَّا وَأَنْتُم مُّسْلِمُونَ اور نہ مرد یہاں تک کہ تم کامل طور پر خدا تعالیٰ کے فرمانبردار نہ ہو چکے ہو۔اس مضمون کے ایک حصے پر اس سے پہلے میں اپنے امریکہ کے دورے کے دوران روشنی ڈال چکا ہوں کسی انسان کے بس میں نہیں ہے کہ اپنی موت کالمحہ مقرر کرے، کسی انسان کے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی تقدیر کو تبدیل کر دے۔پھر یہ کیسا حکم دیا گیا ہے کہ وَلَا تَمُوتُنَ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ تمہیں نہیں مرنا مگر اس حالت میں کہ تم کلیۂ خدا تعالیٰ کے فرمانبردار ہو چکے ہو۔اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت میں جب انسان تقویٰ اختیار کرتا ہے اور تقویٰ کی زندگی بسر کرنا شروع کر دیتا ہے تو لازماً اس کی موت اسلام پر آیا کرتی ہے۔یہی تقویٰ کے مضمون کا حقیقی معنی نے