خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 206
خطابات طاہر جلد دوم 206 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء نہیں پہنچ سکا تھا۔اس لئے پیش تر اس کے کہ وَلَاتَ حِيْنَ مَنَاصِ (مت (۴) کی کیفیت پیدا ہو جائے جب بھاگنے کی کوئی راہ باقی نہ رہے، آپ استغفار کریں ورنہ آپ کی شکلیں وہی بن رہی ہیں جو اس سے پہلے انبیاء کی دشمن قوموں کی بنتی چلی جارہی تھیں۔اب یہ اعتراف حقیقت دیکھیں، لکھتے ہیں کہ : جو قوم نوح، قوم هود، قوم لوط وغیرہ نے جائز قرار دے کر اپنے تہذیب و تمدن میں شامل کر رکھی تھیں ہم پاکستانی انہی قوموں کی طرح احکام الہی سے انحراف کے مرتکب ہورہے ہیں اور ہم تباہی کے اس مقام تک تقریباً پہنچ گئے ہیں جہاں سے واپسی ناممکن ہوجاتی اور توبہ کے دروازے بند ہو جاتے۔(وَلَاتَ حِيْنَ مَنَاصٍ کا کیسا عمدہ نقشہ کھینچا ہے)، آج کے پاکستانیوں پر علامہ اقبال کا یہ شعر صادق آتا ہے۔وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود (کلیات اقبال بانگ درا: ۲۳۱) افسوس کی بات یہ ہے کہ اس سارے ظلم اور سفا کی کے نتیجے میں جو خدا کی تقدیر نے ان سے انتقام لیا ہے اس کے باوجود ان کو ہوش نہیں آئی اور اس کے باوجود ان کو یہ نہیں پتہ چلا کہ مدد کے لئے کس کو پکارنا ہے۔چنانچہ حیدر آباد سندھ اور کراچی میں المدد المدد کے نام سے اشتہار شائع ہوئے اور ان میں پکارا گیا تو فوج کو مدد کے لئے پکارا گیا خدا کو مدد کے لئے نہیں پکارا گیا۔کیسی حماقت ہے اور کتنے ظلم کی حد ہے کہ جس فوج نے گیارہ سال کی حکومت میں پاکستان کو وہاں تک پہنچایا جہاں آج پاکستان پہنچ چکا ہے۔اگر ایک ظالم اور سفاک فوجی ڈکٹیٹر ملک پر حکمران نہ رہتا تو ناممکن تھا کہ آج پاکستان کی یہ شکل بنتی جو اسلام کے نام پر گیارہ سال کی ظلم وسفا کی سے بنائی گئی ہے اور آج یہی قوم اور اس قوم کے بعض سیاسی رہنما اسی فوج کو دوبارہ بلا رہے ہیں۔بڑی دردناک بات ہے لیکن اس درد ناک حالت پر چسپاں ہونے والا ایک لطیفہ مجھے یاد آ گیا، یعنی فوج سے بھاگ کر سیاستدانوں کی طرف گئے، سیاستدانوں سے بھاگ کر فوج کی طرف دوڑے۔فوج سے بھاگ کرسیاستدانوں کی طرف گئے ،سیاستدانوں سے بھاگ کر پھر فوج کی طرف دوڑے۔گزشتہ 20، 25 سال کی پاکستان