خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 202
خطابات طاہر جلد دوم 202 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء کھاتے رہو۔جب خدا کسی قوم سے بدلہ لینے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو بچانہیں سکتی۔ہاں! دعا ئیں ہیں جو اسے بچا سکتی ہیں۔آج بھی اگر تو یہ کرو تو جن پر تم نے ظلم توڑے ہیں، خدا کی قسم! ہماری دعا ئیں آج بھی تمہیں بچالیں گی۔مولوی فتح محمد صاحب امیر جماعت اسلامی پنجاب ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ جماعت اسلامی کو کبھی اتنا معاشرے پر نفوذ نہیں ہوا جتنا اس گزشتہ دور میں ہوا ہے، حکومت کی سر پرستی اس جماعت کو کبھی اتنی حاصل نہیں رہی۔اب اس جماعت کو اگر صالحین کی جماعت شمار کیا جائے تو معاشرے پر اس کا کیا اثر ظاہر ہونا چاہئے؟ یہ کوئی سمجھانے کی بات نہیں ہر انسان اندازہ لگا سکتا ہے لیکن اس گیارہ سالہ دور میں جبکہ جماعت اسلامی کو کھل کھیلنے کی پوری اجازت ملی تھی کیا ہوا اور معاشرے کی کیا شکل ظاہر ہوئی ؟ مولا نافتح محمد صاحب امیر جماعت اسلامی ایک فقرے میں یہ بیان کرتے ہیں: ” یہ انسانوں کا نہیں درندوں کا معاشرہ ہے۔“ پروفیسر غفور احمد صاحب اسی معاشرے کا ذکر کرتے ہوئے ، یہ بھی جماعت اسلامی کے لیڈر ہیں لکھتے ہیں: اشیاء مہنگی اور خون سستا ہو گیا ہے۔‘“ مولا نادرخواستی صاحب لکھتے ہیں: قتل و غارت ، تشدد، اغواء اور ڈکیتیوں کی وارداتیں انتہا کو پہنچی ہوئی ہیں۔“ راجہ محمد افضل صاحب سابق ایم۔پی۔اے کا بیان ہے: 66 چکے ہیں۔“ ” منافقت ، جھوٹ ، ذاتی مفاد پاکستانی سیاست کے اہم نکات بن اور وزیر اعظم پاکستان بینظیر صاحبہ کا بیان شائع ہوا ہے: ”سندھ کے حالات مشرقی پاکستان کی طرح ہیں ، میں حیدر آبادگئی تو مسجد سے اعلان کیا گیا کہ گھیراؤ کر لیا جائے۔“ اس کے علاوہ اخبارات میں جو مختلف عنوانات شائع ہوتے رہے ہیں اور اہل فکر کے