خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 198 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 198

خطابات طاہر جلد دوم 198 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء سے بڑھ کر ترقی کر رہی ہے اور ساری دنیا سے خدا تعالیٰ کے فضلوں کی بارش کی حکایات ان تک بھی پہنچتی ہیں، وہ ہوائیں جو خدا کے فضل لے کر ہمارے دلوں کو ٹھنڈا کرنے اور ہمارے دلوں میں پھول کھلانے کے لئے آتی ہیں، وہ ہوا ئیں جب ان تک پہنچتی ہیں تو ان کو اور بھی زیادہ آگ لگا دیتی ہیں۔الفضل اخبار ان ہواؤں کو اپنے دوش پر اٹھا کر چلنے والا اخبار تھا اور جب یہ دوبارہ جاری ہوا تو اس کی وجہ سے جماعت احمدیہ کو بہت ہی زیادہ حوصلہ پیدا ہوا اور ان کی بہت لمبے عرصے کی پیاس بجھی۔تمام دنیا کے واقعات، احمدیوں کے حالات ان تک پھر دوبارہ پہنچنے شروع ہو گئے۔اس وجہ سے وہ دشمن اور بھی زیادہ جل گیا اور بہت زور لگا کر بالآخر وہ دوبارہ الفضل کو بند کر وانے میں کامیاب ہو گئے۔اس کے متعلق ہمارے ڈاکٹر محمد علی صاحب جو سائیکالوجسٹ ہیں، حیدر آباد سندھ سے اپنے ایک دلچسپ خط میں لکھتے ہیں: کچھ دن پہلے ہمارا روز نامہ الفضل دوبارہ بند ہوا ہے، کسی کو علم نہیں کہ کیسے ہوا؟ بس اتنا پتا چلا کہ بند ہو گیا ہے۔ایک دوست کی رائے ہے کہ کثرت احتیاط سے بند ہوا ہے کیونکہ Excess of every thing is bad، نیم سیفی صاحب نے احتیاط کو اپنی انتہاء تک پہنچایا، عربی کا رسم الخط تک اخبار سے خارج کر دیا۔پھر بھی کسی نہ کسی طرح اس ظالم کی نظر پڑ گئی ، غالب نے شاید نسیم سیفی صاحب سے متعلق یہ کہا تھا: ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی وہ ہم سے بھی زیادہ خستہ تیغ ستم نکلے (دیوان غالب : ۳۳۶) یہ خیال ہو سکتا ہے بعض اور احمدیوں کے دل میں بھی آیا ہو، تبصرہ تو دلچسپ ہے لیکن جائز نہیں اور یہ چونکہ مخلص دوست ہیں، ان سے شکوے کے طور پر نہیں بلکہ میں ایک غلط فہمی دور کرنے کے لئے یہ اقتباس آپ کو سنا رہا ہوں۔نسیم سیفی صاحب ہرگز بزدل نہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ جواں مرد ہیں اور میدان جہاد کی صف اول میں کھڑے ہونے والے انسان ہیں۔وہ اس خوف کی وجہ سے عربی کے استعمال سے نہیں رکے کہ نعوذ باللہ ان پر ہاتھ نہ پڑ جائے ، ان پر تو ہاتھ ویسے ہی ڈالے گئے اور بار بار ڈالے