خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 191 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 191

خطابات طاہر جلد دوم 191 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء انہیں مسجد کو آگ لگانے سے روکا ، تو انہوں نے مسجد کے قریب سے احمدیوں پر فائرنگ شروع کر دی۔“ ایک دریدہ دہن مولوی کا ذکر کرتے ہوئے ایک صاحب ضلع وہاڑی سے لکھتے ہیں کہ : ”ہمارے گاؤں میں آیا ، احمدیت کی مخالفت میں سارا زور لگا کر اپنی علمی قابلیت کولوگوں کے سامنے بیان کرتا رہا۔لوگوں سے پوچھنے لگا! یہ جو اس مسجد کے ساتھ ہی مسجد ہے یہ قادیانیوں کی ہے، یہ جگہ تو اہل اسلام کی جگہ ہے۔تم A۔C کے پاس درخواست دو، ان سے حکومت یہ جگہ لازماً تمہیں دلوائے گی۔جو اس کی زبان پر آیا وہ حضرت سیدنا مسیح موعود علیہ السلام کی ذات بابرکات کے متعلق بولتا رہا۔حضور میری بچیاں اپنے گھر میں روتی رہیں۔حضور ! اس نامراد مولوی نے ہماری مسجد سے اور مکانوں سے بذریعہ مجسٹریٹ 66 پولیس کلمہ شریف مٹواد یا اور مجھے گرفتار کر کے تھانے لے گئے۔“ ایک احمدی اپنے بیٹے کی شادی کی بارات لے جانے کے لئے تیار بیٹھے تھے کہ اچانک مولوی کی معیت میں پولیس نے چھاپہ مارا اور یہ فرد جرم ان پر عائد کیا گیا کہ تمہارے کارڈ پر بسم اللہ بھی لکھی ہوئی ہے اور السلام علیکم بھی، اور اس حد تک تم مجرم ہو کہ اسی پر بس نہیں کی ، آخر پر انشاء اللہ بھی لکھ دیا ہے۔یعنی یہ احمدیوں کے جرائم ہیں، آپ پاکستان کی جیلوں میں جا کر دیکھیں تو آپ حیران ہو جائیں گے کہ اتنے کر یہہ جرائم میں لوگ ملوث ہیں اور اس قدر بھیانک جرم کرنے والے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے بچوں پر ظلم کر کے اور سفا کا نہ ظلم کر کے ان کو مار دینے والے، ان کو اغوا کرنے والے، ان کی ہڈیاں تو ڑ کر ان کو فقیر بنا کر وہ رحم جوان پر لوگوں کو آتا ہے، اس رحم کی بنا پر پیسے بٹورنے والے وہ لوگ اور یہ سارے جرائم ایک طرف اور ایک احمدی ہیں جن کے جرم صرف یہ ہیں کہ انہوں نے بسم اللہ اپنے دعوتی کارڈوں پرلکھی ، انہوں نے السلام علیکم کہا، انہوں نے یہاں تک جرأت کی کہ انشاء اللہ کہہ دیا کہ وہی ہوگا جو خدا چاہے گا۔چک سکندر کے متعلق ماسٹر مظفر احمد صاحب جو پریذیڈنٹ تھے اور انہوں نے بڑی عظیم قربانیاں دی ہیں اور جیل میں بھی خدا کے فضل سے بہت ہی غیر معمولی دباؤ کے نیچے ثابت قدم رہے،